صحافی ہی نہیں اب صحافت بھی خطرے میں | محمد طاہر خان ندوی

 صحافی ہی نہیں اب صحافت بھی خطرے میں

محمد طاہر خان ندوی



آج کے دور میں سیاست کرنا یا سیاست دان بننا جتنا آسان مشغلہ ہے اتنا صحافت کرنا یا صحافی بن کر قوم کی خدمت کرنا آسان کام نہیں ہے ۔ ایک سیاست دان اپنی سیاسی سوجھ بوجھ اور عقل و فہم کے ذریعے اپنے خوابوں کا محل تیار کر سکتا ہے اور خود اس محل کا شہزادہ بھی بن سکتا ہے لیکن آج کے اس مطلبی دور میں ایک صحافی اپنی محنت ، لگن ، حب الوطنی کا لیبل لگا کر اور اپنی قوم کی خدمت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرکے یہاں تک کہ اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے اور چاہے کہ اپنے خوابوں کا محل نہیں تو کم از کم ایک گھر ہی بنالے جو اس کی بیوی اور بچوں کے لیے سر چھپانے کے لائق ہو بہت مشکل ہے ۔ 

کل بھی ہندوستان سمیت دیگر ممالک میں صحافیوں کے لئے زمین تنگ کی جا رہی تھی اور آج بھی تنگ کی جا رہی ہے ۔ کل بھی ایک صحافی کو بے شمار خطرات کا سامنا تھا اور آج بھی ہے ۔ کل بھی ایک صحافی کبھی اپنی جان کو لے کر فکر مند تھا ، کبھی حالات کو لے کر تشویش میں مبتلا تھا ، کبھی اپنی خستہ مالی حالت کو لے کر زمانے کی ٹھوکریں کھا رہا تھا ، کبھی اپنی آرزؤوں اور تمناؤں کا گلا گھونٹ کر اور اپنے خوابوں کے محل کو خود اپنے ہاتھوں مسمار کر کے رونا روتا ہے اور کبھی حالات تو اس سے بھی بدتر ہوتے ہیں اور نوبت جان تک گنوانا پڑ جاتی ہے اس کے ڈھیروں مثالیں ہیں جیسے گوری لنکیش جس کا تذکرہ اب بے سود ہو چکا ہے اور اس کی فائل پر گرد و غبار اٹا ہوا ہے ۔ الجزیرہ کی بیورو چیف شیریں ابو عاقلہ جسے اسرائیلی فوجی کی گولی کے ذریعے سوچا سمجھا نشانہ بنایا گیا تھا۔ دانش قریشی جو کہ افغانستان میں فرنٹ لائن رپورٹنگ کرتے ہوئے جاں گنوا بیٹھے تھے ۔ ان جیسی ہزاروں مثالیں ہیں کہ ایک صحافی کل بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر صحافتی خدمات انجام دے رہا تھا اور آج بھی دے رہا ہے ۔ 



آج صحافی اور صحافت دونوں خطرے میں ہے اور یہ خطرہ صرف خارجی عناصر سے نہیں ہے بلکہ اندرونی عناصر سے زیادہ ہے ۔ آج جو لوگ اردو اخبارات سے جڑے ہوئے ہیں اور اردو میں اپنی صحافت کو جاری رکھے ہوئے ہیں ان کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔ ان کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔ ان کی گھریلو زندگی اثر انداز ہو رہی ہے ۔ ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں ہے کہ وہ اس پر خطر راستے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم اور آپ ہوں گے ۔ ایک اردو اخبار کا مالک اپنے دل میں اپنی قوم اور اپنی زبان کی محبت لئے ہوئے کام کرتا رہتا ہے تاکہ اس کی زبان کو فروغ ملے ، اس کی تہذیب پروان چڑھے اور اس کے لئے وہ اپنے ذاتی سرمایہ کو صرف کرتا ہے اور اخبار نکالنے کے لیے کافی تگ و دو اور جد و جہد کرتا ہے اور ہمارا رویہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اخبار کو خریدنا نہیں چاہتے ، ہم اردو پڑھنا نہیں چاہتے ، ہم ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے ، ہم ان کی خدمات کو معاشرے اور سماج کی فلاح و بہبودی کے لائق نہیں سمجھتے اور بے چارے یہ اخبار والے تھک ہار کر یہ کہہ کر اخباروں کی اشاعت کرنا چھوڑ دیتے ہیں کہ اس پوری بھیڑ میں میں ہی کیوں تنہا اس ذمہ داری کو اٹھاؤں ؟ کیا اخبار والوں نے یا اردو کے صحافیوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کوئی ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟ صرف یہ طبقہ ہی کیوں اس ذمہ داری کو اٹھائے ؟ کیا باقی لوگ جو اردو کا دم بھرتے ہیںکی ذمہ داری نہیں ہے ؟ 

حقیقت تو یہ ہے کہ ہم غیر ذمہ دار ہو گئے اور اردو زبان و ادب کے تئیں اپنی ذمہ داروں سیوںبھاگنے لگے ہیں ۔ ہمارے ملک میں ایسے کئی اخبار ہندی انگریزی اور دوسری زبانوں میں موجود ہیں اور ان کی اشاعت اور قیمت دونوں ہی اردو اخبار سے زیادہ ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی زبان اور تہذیب کو لے کر بیدار ہیں اور فکر مند بھی ہیں ۔ آپ ہندی اور انگریزی اخباروں کو دیکھ لیجئے کہ روزانہ کے اعتبار سے کتنے اشتہارات لگتے ہیں اور اردو کے اخباروں کو بھی دیکھ لیجئے کہ یہ بے چارے مدارس والوں سے ، بڑی بڑی تنظیم والوں سے ، بڑے بڑے جبہ و دستار والوں سے ، اردو کے دم بھرنے والوں سے ، اور بڑے بڑے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں سے اگر کہتے ہیں کہ یوم جمہوریہ و یوم آزادی کے موقع پر ہی سہی کوئی اشتہار دے دیجئے تو ہم کہتے ہیں کہ اردو اخباروں میں اشتہار دے کر ہم کیا کریں ، ہمارا کون سا فائدہ ہو جائے گا اور پھر یہی لوگ ہندی کے ایسے اخباروں میں اشتہار دیں گے جو آر ایس ایس کے نظریہ کو تقویت پہنچاتے ہیں اور انہیں مالی امداد فراہم کرتے ہیں ۔ ان مواقع پر مسلمانوں کے لاکھوں روپے ہندی کے اخباروں میں صرف ہوتے ہیں جبکہ اردو کے اخباروں کو اشتہارات نہ ملنے کی وجہ سے کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہیں نامہ نگار نہیں ملتے ، انہیں رپوٹر نہیں ملتے ، اچھا لکھنے والے نہیں ملتے جس کی وجہ سے ایک صحافی اور صحافت دونوں ہی آج خطرے میں ہے کیوں کہ اگر صحافی ہیں تو صحافت ہے جو صحافی نہیں تو صحافت بھی نہیں اس لئے ہمیں ان پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے صحافیوں اور صحافت کو کیسے باقی رکھ سکتے ہیں اور اس کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں ۔







Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی