میں یہ چادر نہیں اتار سکتی کیوں کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے
طاہر ندوی
یہ برملا اور خلافِ توقع ایک صحافی کے سوال کا جواب تھا جس نے ایک چوبیس سالہ لڑکی سے کہا کہ" اب آپ انتہا پسند اور شدت پسند کے نرغے سے آزاد ہو چکی ہیں اب اپنے آزادی ، اور آزادئ رائے والے ملک میں اس چادر کو اتار پھینکئے "
یہ واقعہ 2018 کا ہے جب ایک اطالوی دوشیزہ سیلفیا رومانو کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ کینیا کے شہر مالندی سے اسّی کیلو میٹر دور شکامہ کے گاؤں میں غرباء و مساکین کے لئے امدادی اسباب و وسائل کی فراہمی جیسے عظیم خدمات انجام دے رہی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ عیسائی مشنری کے ذریعہ قائم کردہ ایک یتیم خانہ میں بطور ایک والنٹیئر اپنی خدمات کی انجام دہی میں مصروفِ عمل تھیں ۔
جب پوری دنیا ایک عالمی وبا جیسی مہلک ترین بیماری سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنی ایڑیاں رگڑ رہی تھی ، اور مارے خوف و دہشت کے شکست خوردہ قوم کی مانند آخری سانسیں لے رہی تھی اس وقت اٹلی کا خاص طیارہ 10 مئی 2020 کو روم شیامپینو ائیرپورٹ پر اترتا ہے ۔
جس سے ایک چوبیس سالہ دوشیزہ نقاب میں ملبوس ، ہاتھوں میں دستانے ، پیروں پر جراب ، اور ایک بڑی سی چادر جس کے ذریعہ پورا جسم مستور و محجوب باہر نکل کر آتی ہیں ۔
ائیرپورٹ پر موجود صحافیوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے اپنے کیمروں کے ہمراہ سیلفیا رومانو کی اور بڑھتے ہیں ۔
صحافی کا پہلا سوال : آپ کیسی ہیں ؟
میں بالکل ٹھیک ہوں جسمانی اور دماغی طور پر مضبوط و مستحکم ہوں ۔
دوسرا صحافی : اب آپ الشباب نامی انتہا پسند تنظیم کی گرفت سے نکل آئی ہیں اب اپنے آزادی، اور آزادیِ رائے والے ملک میں اس چادر کو اتار پھینکیں ۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔ میں یہ چادر نہیں اتار سکتی کیونکہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور یہ چادر محض ایک چادر نہیں بلکہ میری عزت و آبرو کی پاسبان ، میری عفت و پاکدامنی کی نگہبان ، اور میری شرم و حیا کی نگراں ہے ۔
ایک خاتون صحافی آگے بڑھتی ہے اور اپنا سوال کچھ اس انداز سے کرتی ہیں : دہشت گردوں نے بہت اذیت دی ہوگی ؟ آپ کے ساتھ زور زبردستی کی ہوگی ؟ بلکہ سنا ہےکہ آپ کی شادی بھی کروا دی گئی؟
ایسا کچھ نہیں ہوا ، نہ مجھے اذیت دی گئی نہ کسی طرح کا جبراً کوئی معاملہ پیش آیا بلکہ وہ لوگ میرے ساتھ انسانیت کا معاملہ کرتے اور حسنِ سلوک سے پیش آتے ۔
شروع شروع کچھ پریشانیاں ضرور ہوئی میں ہمیشہ روتی رہتی ، انھوں نے مجھے ایک الگ کمرے میں مقید کر رکھا تھا جہاں میرے علاوہ کوئی نہ تھا ، وقت گزارنا کافی مشکل تھا ، میں نے ان سے کہا مجھے کچھ کتابیں چاہئے انھوں نے فوراً کچھ کتابیں اور ساتھ میں ایک قرآن انگریزی ترجمہ و تفسیر پر مشتمل لاکر رکھ دی۔۔
قرآن کا مطالعہ شروع کیا اور جوں جوں آگے بڑھتی گئی دل کی تاریکیاں کافور ہوتی گئیں اور پھر اسلام کی محبت ، اسکی حقانیت دل میں جاگزیں ہوگئی ،
اور آخر کار میں نے اسلام قبول کرلیا اب میں قرآن کے ساتھ ساتھ نمازیں بھی ادا کرتی ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے ہدایت دی اور زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا ۔
مجھے خوشی ہے کہ اٹھارہ مہینے کے بعد اپنے اہل و عیال سے ملنے کا موقع ملا اور انکے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع بھی فراہم ہوا ۔
یاد رہے کہ سیلفیا رومانو نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے نام پر اپنا نام عائشہ رکھا ہے
اور جب سے اس نے اسلام کے دامن میں پناہ لی ہے مسلسل آزمائشوں سے دوچار ہیں ۔
جب ایک انٹرویو میں جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بابت پوچھا گیا تو برملا جواب دیا " ان دھمکیوں کا روزِ اول سے اندازہ تھا اور قرآن پڑھ کر بھی یہی سیکھا کہ اسلام لانے کے بعد آزمائشیں تو آتی ہی ہیں میں ان گیدڑ بھپکیوں سے قطعاً ڈرنے یا گھبرانے والی نہیں ہوں میں ایک عاقل بالغ لڑکی ہوں سوچ سمجھ کر اور خوشی سے اسلام قبول کیا ہے "
اللہ ہماری اس بہن کو اپنی امان میں رکھے ان کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے اور تاحیات دین میں ثابت قدمی اور استقامت عطا فرمائے آمین یارب العالمین


بہت ہی ایمان افروز ۔ایسے واقعات کو عام کرنا بہت ضروری ہے ۔کتنے پشتینی مسلمانوں کے ایمان کو بھی تازہ کردیتا ہے ۔
جواب دیںحذف کریںایک تبصرہ شائع کریں