میرا قلم میری زباں | محمد طاہر خان ندوی

 میرا قلم میری زباں

محمد طاہر خان ندوی



ہندوستان کی تاریخ میں ایسے کئی فسادات ہوئے جس نے انسانیت کو شرم سار کر دیا اور دلوں کو ایسا زخم فراہم کیا جو رہ رہ کر تازہ ہوتا رہتا ہے اور جب یہ زخم کھلتا ہے تو جسم میں کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے اور آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں ۔ انہیں زخموں میں سے ایک زخم گجرات اور گودھرا سانحہ کا ہے ۔ جسے برپا ہوئے 20 سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ گجرات کا دنگا 2002 میں کرایا گیا تھا ۔ اگر میں چاہتا تو اسے حادثہ یا واقعہ کہہ سکتا تھا لیکن گجرات کا دنگا ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھا جسے اس وقت کے وزیر اعلیٰ جو کہ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم ہیں ان کے اشاروں اور منصوبے کے مطابق ہوا تھا ، جس میں سیکڑوں افراد نے اپنی جان گنوائی ، نا جانے کتنی ماؤں اور بہنوں کی عصمت لوٹی گئی ، نا جانے کتنے معصوم بچوں اور بچیوں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا اور نا جانے کتنی دکانوں ، گھروں اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور یہ سب اس وقت کے وزیر اعلیٰ کے اشاروں پر ہو رہا تھا لیکن کہتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور بدقسمتی سے لاٹھی ان کے ہاتھ لگی جو گجرات دنگے کے اصل مجرم تھے اور بڑی آسانی سے صاحب کو ملک کی تمام نچلی اور بڑی عدالتوں سے کلین چٹ ملتی چلی گئی ۔ گزشتہ دنوں بی بی سی نے اسی دنگے کی ایک ڈاکیومنٹری فلم بنائی جس میں صاف طور پر صاحب کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور یہ رپورٹ محض اندازہ یا گمان نہیں ہے بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے بی بی سی اس کی تحقیقات کر رہی تھی اور جیسے ہی اسے ریلیز کیا گیا تو صاحب کے پیروں سے زمین کھسکتی نظر آئی اور آناً فاناً اس ڈاکیومنٹری کو انڈیا میں پابندی لگا دی لیکن کالج اور یونیورسٹی کے طلباء بھی اب ضد پر اڑ چکے ہیں کہ ہم تو یہ ڈاکیومنٹری دیکھیں گے ۔ لیکن صاحب اور ان کے معتقدین کو یہ گوارہ نہیں کہ کوئی اس ڈاکیومنٹری کو دیکھے اسی لئے جب جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء نے جب اس کی اسکریننگ کرانے کی کال دی تو بجلی کاٹ دی گئی ، اسی طرح جب جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے طلباء نے اس کو دکھانے کا اعلان کیا تو کئی طلباء کو حراست میں لے لیا گیا ، البتہ کیرل میں گورنمنٹ لاء کالج کے طلباء نے اس کو دکھایا ، اس کے علاوہ کئی یونیورسٹیوں میں اس کی اسکریننگ کی کال دی جارہی ہے اور طلباء اپنے جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے اسے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن سرکار کو یہ منظور نہیں اور اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ تو سب کو معلوم ہے کہ آخر سرکار کیوں نہیں چاہتی کہ اس ڈاکیومنٹری کو دیکھا جائے جبکہ کشمیر فائلس جو ایک پروپیگنڈا پر مبنی تھی اسے ٹیکس فری کر دیا گیا اور یہاں پابندی ؟؟؟  




Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی