جمہوریت کا تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں
محمد طاہر خان ندوی
جمہوریت کسی عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھی جانے والی شئی نہیں ہے بلکہ ایک طرز حیات ہے جس کے تحفظ ، استحکام اور توسیع کے لیے مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہوتی ہے اور جس جمہوریت کو تحفظ ، استحکام ، مضبوطی اور توسیع کے لیے حکومتی اداروں کی حمایت حاصل ہو ، وہ اس کے تئیں وفادار ہوں ، اعلٰی سرکاری عہدوں پر جو فائز ہیں وہ مخلص ہوں ، اپنی قوم کے تئیں ہمدرد اور خیر خواہ ہوں اور عوام میں اس کے تئیں بیداری اور فکر مندی ہو تو ایسی جمہوریت خوب ترقی کرتی ہے اور ایسی جمہوریت میں عدل و مساوات پروان چڑھتا ہے ، ہر ایک کو برابری کا حق دیا جاتا ہے ، ہر ایک کو لکھنے پڑھنے اور بولنے کی آزادی دی جاتی ہے اور ایسا سماج ہر میدان میں چاہے وہ سیاسی ہو سماجی ہو ، معاشی ہو یا معاشرتی ہو ، تعلیمی ہو یا تجارتی ہو ، ثقافتی ہو یا تمدنی الغرض انسانی سماج کا ہر طبقہ خوش حال ہوتا ہے اور اگر یہی جمہوریت خود دیس نکالا ہو جائے اور جمہوریت کا راگ الاپنے والے اگر خود ہی اسے غیر محفوظ اور غیر مستحکم بنانے میں لگ جائیں تو ایسا سماج تباہی اور بربادی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ سمجھئے کہ جمہوریت کسے کہتے ہیں تو اس کی سب سے مقبول تعریف امریکہ کے صدر ابرہام لنکن نے کی تھی کہ ایسا نظام سیاست جس میں عوام کی حکومت ، عوام پر عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے ہوتی ہو ۔ ایک ایسا نظام جس میں تنقید کا حق حاصل ہو ، اظہارِ خیال اور اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہو ، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو ، جہاں فیصلے شکل و صورت ، عہدہ و منصب اور حسب و نسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدل و انصاف کی بنیاد پر ہوتے ہوں ، ایک ایسا نظام جہاں حکومت کو اپنے تمام معاملات میں عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے ، جہاں میڈیا کو اپنی بات رکھنے کی پوری آزادی ہو ، جہاں عدلیہ کو اپنے فیصلے سنانے پر مکمل اختیار ہو ، ایسے نظام سیاست کو جمہوریت کہتے ہیں ۔ آج ہندوستان کی جمہوریت اور جمہوری ستون جس حالت زار کے شکار ہیں یہ حالت ایک دن میں نہیں پہنچی ہے بلکہ یہ سالوں کی کارستانی ہے ۔ اگر کل کو کوئی مؤرخ یہ کہے کہ نئی دہلی ایک دن میں تباہ نہیں ہوئی تھی تو وہ بالکل حق بجانب ہوگا ۔ ہمارے اندر اس حقیقت کو قبول کرنے کی ہمت ہونی چاہیے کہ آج ہندوستانی جمہوریت کے تانے بانے کو موجودہ وزیر اعظم اور ان کی پارٹی نے جس بے قدری سے بکھیر کر رکھا ہے اور ہندوستان کو ایک ایسے موڑ پر لے آئی ہے جہاں سے نجات حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا جتنا کہ 1977 میں تھا ۔ وہ سال ملک پر جبری ایمرجنسی کا تھا ، دو سال ایمرجنسی تھوپنے کے بعد جب انتخابات ہوئے ہیں تو اس میں اندرا گاندھی کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا تھا ۔ 1977 تک اکثر میڈیا اور نیوز چینلز مسز گاندھی کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں سے ناخوش تھے ، وہ کل حکومت کو آئینہ دکھا رہے تھے اور آج وہی میڈیا حکومت کی غلامی اور چاپلوسی میں مصروف ہے ۔
آج ہندوستانی جمہوریت بحران کا شکار ہے اور اس میں میڈیا کی اس بے حسی کا غیر معمولی رول ہے ۔ میڈیا کو زر خرید غلام بنا لیا گیا ہے ، اب ان کے شوز میں اور پرائم ٹائم میں صرف اسی چیزیں دکھائی جاتی ہیں جس کا براہ راست سرکار کو فایدہ پہنچتا ہے اور جنہوں نے اپنے ضمیر کا سودہ نہیں کیا وہ یا تو نیوز چینلوں اور اخبارات کی سرخیوں سے ہٹا دیے گئے یا جان سے مار دئے گئے یا پھر جیلوں میں ڈال دیے گئے ۔ آج پچاس سے زائد صحافیوں کو اپنی خبروں کے لئے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ہندوستانی جمہوریت کی اسی بحران کو دیکھتے ہوئے ریاستہائے متحدہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا تھا جب وہ جولائی 2021 میں ہندوستان کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی جمہوریت بحرانی کے دور سے گزر رہی ہے ۔
جمہوری نظام کے تیسرے ستون کی اگر بات کی جائے تو اس شعبے میں بھی موجودہ سرکار کے آنے کی وجہ سے زوال کی شکار ہے ۔ بابری مسجد کا جس چیف جسٹس نے نہایت غیر منصفانہ طور پر فیصلہ سنایا تھا موجودہ سرکار نے اس چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو ایوان بالا کی رکنیت دے دی ۔ اسی طرح ایک سال بعد جسٹس اے کے مشرا کو انسانی حقوق کمیشن کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے اور اب جسٹس اے ایم کھانولکر جس نے مودی سرکار کو خوش کرنے کے لیے ذکیہ جعفری کے معاملے میں کلین چٹ دے دی بلکہ مقدمہ کو بھی خارج کر دیا اور مظلوموں کی مدد کرنے والے تیستا سیتلواڈ ، سری کمار اور سنجیو بھٹ کو گرفتار کرنے کا سمن بھی جاری کردیا ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ سارے ہی لوگ دیمک بن کر جمہوری ستونوں کو کھا رہے ہیں بلکہ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں جمہوریت کی فکر ہے اور اسے بچانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں ۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ کے ہی سابق جسٹس بی این کرشنا نے کہا تھا کہ جس ملک میں ججس اور صحافی کمزور ہو جائیں تو اس ملک کی جمہوریت ختم ہو جاتی ہے یہ دو پیشے ایسے ہیں جنہیں یقینی طور پر آزاد ہونا چاہیے ایک عدلیہ اور دوسرا میڈیا ۔ یہ ملک کی بد نصیبی ہے کہ آج یہ دونوں شعبے بحرانی کے دور سے گزر رہے ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ جمہوریت کی تحفظ کے لیے اس کے چاروں ستونوں کو مضبوط کرنا ہوگا ۔ ایسا نہیں ہے عوام میں اسے لے کر بیداری نہیں ہے بلکہ سی اے اے تحریک ، کسان آندولن اور اب راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا یہ تمام تحریکات سرکار کو اشارہ دے رہی ہیں جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لیے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔


ایک تبصرہ شائع کریں