سلگتے شہر زہریلی زبانیں
طاہر خان ندوی
١٩٢٥ میں پیدا ہونے والی تنظیم آر ایس ایس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس ملک کی عظیم محافظ اور سب سے بڑی وطن پرست ہے اور اسی لئے اس ملک میں کون وفادار ہے اور کون غدار ہے یہ سند دینے کا ذمہ بھی آر ایس ایس نے اپنے سر لے رکھا ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس کے موجودہ سربراہ موہن بھاگوت مسلمانوں اور عیسائیوں کو لے کر ان کی وفاداری پر سوال اٹھاتے رہتے ہیں ۔ جبکہ آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جو نہ تو آزاد بھارت کے آئین و دستور پر یقین رکھتی ہے ، نہ قومی ترنگے کا احترام کرتی ہے ، نہ جمہوریت کو مانتی ہے ، نہ مذہبی میل جول والے قومی جذبے میں یقین رکھتی اور نہ ہی جنگ آزادی سے اس کا کوئی تعلق اور سروکار رہا ہے لیکن پھر بھی موہن بھاگوت جیسے لوگ یہ طئے کرتے ہیں کہ کون باہر سے آیا ہے اور کون اندر کا دشمن ہے ، کون وفادار ہے اور کون غدار ہے ، کس سماج کو کیا کھانا ہے اور کیا پہننا ہے ، کس معاشرے کو کیسے زندگی بسر کرنا ہے اور کیسے مذہبی امور کو انجام دینا ہے اب یہ سارے معاملات آر ایس ایس کے سربراہ طئے کرتے ہیں ۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آر ایس ایس نے ہمیشہ قومی ترنگے کی مخالفت کی ہے اور کبھی اس کے تئیں وفاداری نہیں دکھائی بلکہ آر ایس ایس کے پہلے سربراہ ڈاکٹر ہیڈ گیوار نے تو قومی ترنگے کے بجائے بھگوا جھنڈے کو پوجنے کا حکم دیا تھا اسی طرح ١٩٤٦ میں آر ایس ایس کے سربراہ ایم ایس گولوالکر نے یہ دعویٰ کیا کہ صرف بھگوا جھنڈا ہی مجموعی طور پر عظیم ہندوستانی تہذیب کی علامت ہے ۔ جس طرح انہوں نے قومی ترنگے کی مخالفت کی اسی طرح آئین ہند کی بھی مخالفت کی انہوں نے ملک کے سیکولر روپ کو خارج کرکے اسے " ہندو بھومی " کا نام دیا ۔ ہندوستان کے موجودہ آئین کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ مغربی ممالک کے مختلف دستوروں سے لی گئی ہے اور اس میں ایسا کچھ بھی نہیں جسے ہم اپنا کہہ سکیں ۔ آر ایس ایس اپنے جنم سے ہی جمہوریت سے نفرت کرتا رہا ہے اور اس کی رگوں میں جمہوریت سے شدید نفرت کا خون گردش کرتا رہا ہے ۔ ١٩٤٠ میں گولوالکر نے آر ایس ایس کے ہیڈ آفس ، ریشم باگ ، ناگپور میں جمہوریت کے خلاف زہر اگلتے ہوئے کہا تھا کہ" ایک جھنڈے کے نیچے ، ایک لیڈر کی رہنمائی میں ، ایک ہی فلسفے اور نظریے سے متاثر ہو کر ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اس عظیم دھرتی کے کونے کونے میں ہندوتو کی چمک دار مشعل کو روشن کر رہا ہے " ایک جھنڈا ، ایک رہنما اور ایک فلسفہ یہ وہی نعرہ ہے جو جرمنی میں ہٹلر کی قیادت میں نازی پارٹی اور اٹلی میں مسولینی کی قیادت والی فاشسٹ پارٹی نے بلند کیا تھا ۔
آج جو لوگ ہندوستان پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور وفاداری کی سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کبھی جنگ آزادی کے مخالف تھے اور دور دور تک " بھارت چھوڑو تحریک" سے کوئی واسطہ نہیں تھا بلکہ گولوالکر کا یہ کہنا کہ بھارت چھوڑو تحریک کے درمیان آر ایس ایس کا روز مرہ کا کام جوں کا توں چلتا رہا بہت معنیٰ رکھتا ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب بھگت سنگھ ، راج گرو ، اشفاق اللہ خان ، رام پرساد بسمل ، چندر شیکھر آزاد اور راجندر لہری جیسے ہزاروں نوجوان ذات پات اور مذہبی بھید بھاؤ کو بھلا کر بھارت کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے ، ہیڈ گیوار اور ان کے ماننے والے ملک کا دورہ کرتے ہوئے صرف ہندو راشٹر اور ہندو تہذیب تک ہی خود کو محدود رکھتے تھے ۔ آر ایس ایس ملک کی حفاظت اور سالمیت کے بارے میں بہت فکر مندی ظاہر کرتا ہے اور اس کے لئے وہ کیمپ اور اجلاس منعقد کرتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے کیونکہ آر ایس ایس نے ١٩٩٢ میں بابری مسجد کو شہید کرکے پورے ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیا اور نہ جانے ایسے کئی واقعات ہیں جس میں براہ راست آر ایس ایس کے کارکنان ملوث پائے گئے ۔ آزادی کے بعد گولوالکر نے اپنے ایک مضمون میں ملک کے تین بڑے دشمن گنوائے جن میں نمبر ایک پر ملک کے مسلمانوں کو رکھا ۔ پھر آگے لکھتا ہے کہ پاکستان کی مدد کرنے والے وہ سب دہشت گرد ہمیشہ کے لئے چلے گئے باقی مسلمان ہمارے وطن پرست ہیں اس طرح کے بھروسے میں رہنا خود کشی کے برابر ہوگا ۔ آزاد بھارت میں جو بھی شخص یا تنظیم اپنے ہم وطنوں کے بارے میں اس طرح کا زہر اگلتے ہیں وہ صرف دیش کو توڑنے والے ہو سکتے ہیں دیش کی سالمیت کی فکر کرنے والے نہیں ہو سکتے ۔ آج موہن بھاگوت کہہ رہے ہیں کہ مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں اور مسلمانوں کو ویسا رہنا پڑے گا جس طرح ہم چاہتے ہیں اگر مسلمان اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی برتری اور مذہبی بالا دستی کو چھوڑنا پڑے گا اور اس سوچ کو بدلنا پڑے گا کہ ہم کبھی اس ملک کے حکمراں تھے یا آئندہ ہماری حکومت قائم ہوگی اب اس ملک میں ہندؤوں کی حکومت قائم ہو چکی ہے اور آگے بھی رہے گی اب کوئی ہماری سیاست کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا ہے اگر مسلمانوں کو اور عیسائیوں کو اس ملک میں رہنا ہے تو انہیں ہماری پیروی کرنی پڑے گی ورنہ ہم ان کے لئے کچھ نہیں کر سکتے ۔ یہ بات موہن بھاگوت کہہ رہے ہیں جو آر ایس ایس کے سربراہ ہیں جس نے کبھی آزاد بھارت میں یقین نہیں رکھا ، اس کے دستور کو نہیں اپنایا ، اس کی جمہوریت کو کبھی تسلیم نہیں کیا ، قومی ترنگے کا کبھی احترام نہیں کیا آج وہ ملک میں کسے رہنا ہے اور کسے نہیں رہنا ہے یہ طئے کر رہا ہے ۔
سلگتے شہر زہریلی زبانیں
دلوں میں ان کے ہندوستان کب ہے
حیدر علوی


ایک تبصرہ شائع کریں