میرا قلم میری زباں
محمد طاہر خان ندوی
ان دنوں" ہندوستانی شہریت " ترک کرنے کو لے کر ملک میں کافی گرما گرمی چل رہی ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں اپنی ہندوستانی شہریت ترک کرکے ، امریکہ ، آسٹریلیا ، کناڈا ، چین ، جاپان ، فرانس ، یہاں تک کہ پاکستان کی شہریت بھی لے رہے ہیں ۔ ایک ایسی حکومت جو خود کے " وشو گرو " ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ۔ عرب ملکوں سمیت پورے یورپ میں " ترقی یافتہ " ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے ۔ صنعتی ترقی کا راگ الاپتی ہے ۔ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ میں اضافہ ہونے کی بات کرتی ہے ۔ خود کو مستحکم اور ایک مضبوط ملک کہتی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ خود ہندوستان کے لوگوں کو یہاں اپنا مستقبل خطرے میں نظر آ رہا ہے اور اس لئے وہ ہندوستان کی شہریت چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی شہریت اختیار کر رہے ہیں ۔ ہمارے نائب وزیر خارجہ مرلی دھرن نے حکومت کا ڈیٹا بیان کرتے ہوئے کہا کہ صرف2022 میں 1 لاکھ 83 ہزار لوگوں نے ہندوستان کی شہریت چھوڑ دی ہے ۔ سال 2021 میں 1 لاکھ 63 ہزار لوگوں نے بھارت کی شہریت چھوڑی تھی جبکہ سال 2015 میں 1 لاکھ 31 ہزار لوگوں نے ہندوستان کی شہریت ترک کی تھی ۔ سال 2016 میں 1 لاکھ 41 ہزار لوگوں نے شہریت چھوڑ دی ۔ سال 2017 میں 1 لاکھ 33 ہزار 49 لوگ ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے ۔ سال 2018 میں 1 لاکھ 34 ہزار 561 لوگ اس ملک سے ہمیشہ ہمیش کے لئے چلے گئے تھے اسی طرح سال 2019 میں 85 ہزار 256 لوگوں نے یہاں کی شہریت چھوڑ کر یورپ کے ملکوں میں چلے گئے ۔ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سال 2011 سے اب تک 16 لاکھ لوگوں نے ہندوستان کی شہریت چھوڑ دی ہے ۔ ہندوستانی شہریت چھوڑنے کے اس سلسلے میں 2015 کے بعد سے تیزی آئی ہے اور لوگ بڑی تعداد میں " وشو گرو " سے ہجرت کر رہے ہیں ۔ آخر اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنی شہریت چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں ؟ یہ ایک اہم سوال ہے ۔ ماہرین کے مطابق 2004 سے 2014 کے درمیان ہندوستان کی حالت کافی بہتر تھی ۔ مالی حالت بھی بہتر ہو رہی تھی ۔ معاشی و اقتصادی حالت بھی بہتر تھی ۔ دوسری طرف صنعت و حرفت بھی اچھی حالت میں تھی اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جو ہندوستانی شہریت ترک کے چلے گئے وہ لوٹنا شروع ہو گئے تھے لیکن مرکز میں بی جے پی کی حکومت آتے ہی برے دن شروع ہوئے۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کی وجہ سے مزید برے دن آئے۔ لوگوں کو موجودہ سسٹم پر بھروسہ نہیں رہا ۔ وہ خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ان ساری وجوہات کی بنا پر اب لوگ بڑی تعداد میں ہندوستان کی شہریت چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں ۔ یہ سرکار کے لئے لمحۂ فکریہ ہے اور قابل افسوس بھی کہ وہ اپنی عوام کی حفاظت اور انہیں بہتر مستقبل فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام ہو رہی ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں