میرا قلم میری زباں | محمد طاہر ندوی

 میرا قلم میری زباں

محمد طاہر ندوی



آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو بھارت کے پچیس کروڑ مسلمانوں کی ایک مشترکہ تنظیم اور ایک مضبوط آواز سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ اس تنظیم میں کئی شعبے ہیں جس میں ایک مضبوط شعبہ "شعبہ خواتین" ہے جسے "خواتین ونگ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس شعبے کو سابق جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے 2015 میں شروع کیا تھا جب تین طلاق کا مسئلہ بڑے زوروں پر تھا اور یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بورڈ میں ایک شعبہ ایسا ہو جس کی نمائندگی مسلم خواتین کے ہاتھ میں ہو۔ چنانچہ ڈاکٹر اسما زہرا صاحبہ کو اس ونگ کا انچارج بنایا گیا اور اس کے بعد بڑی تعداد میں خواتین اس شعبے سے جڑنے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ شعبہ اتنی ترقی کرنے لگا کہ بعض لوگوں کو یہ خیال ہو چلا کہ کہیں یہ شعبہ ان کی دسترس سے باہر نہ ہو جائے۔ یہ شعبہ ترقی کرتا رہا۔ خواتین کے مسائل کی تحفظ کے لئے آواز اٹھاتا رہا۔ اسلام مخالف طاقتوں کو جواب دیتا رہا۔ خواتین کی یہ کامیابی ، وقتِ قیام سجدے میں گرنے والوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی چنانچہ خواتین ونگ کے خلاف اور خاص کر ڈاکٹر اسما زہرا کے خلاف سازشوں کے تار بنے جانے لگے۔ انہیں ہراساں کیا جانے لگا۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا گیا اور ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی کوششیں ہونے لگیں۔ اس کھیل کی شروعات ڈیڑھ سال قبل ہوئی جب مارچ 2021 میں مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوتی ہے۔ جس میں چند لوگ خواتین ونگ کے طریقہ کار پر اعتراضات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس شعبے کا طریقہ کار غیر دستوری ہے لہذا اس کے طریقہ کار اور دائرہ کار طئے کئے جانے چاہئیں چنانچہ اسی میٹنگ میں ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے جس کے کنوینر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ہوتے ہیں۔ اس کمیٹی کا کام تھا کہ حالات کا صحیح جائزہ لے۔ شکایتوں کو سنے اور ایک رپورٹ بنا کر مجلس عاملہ کو سپرد کر دے لیکن اس پورے معاملے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ کمیٹی نے خود ہی خواتین ونگ کو تحلیل یا موقوف کردیا اور اس کی خبر بورڈ کے اہم اہم ذمہ داروں کو بھی نہیں دی گئی۔ اس کے بعد بورڈ کے جنرل سیکرٹری اپنا بیان جاری کرتے ہیں کہ خواتین ونگ کو بورڈ کے بینر تلے اب کسی بیان کی اجازت نہیں ہوگی۔ بورڈ کے کسی شعبے سے کسی طرح کی کوئی سرگرمی انجام نہیں دی جائے گی۔ خواتین ونگ کے تمام سوشل اکاؤنٹ ڈلیٹ کر دئے جائیں۔ مجلس عاملہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس شعبے کے دائرہ کار اور طریقہ کار طے کیے جائیں گے اس کے بعد اس شعبے کو پھر سے شروع کردیا جائے گا۔ اب اس بیان میں کتنی سچائی ہے وقت آنے پر معلوم ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اب تک اس کے دائرہ کار اور طریقہ کار طے نہیں کیے گئے تھے؟ کیا اب تک یہ شعبہ آزادانہ طور پر کام کر رہا تھا ؟ کیا واقعی کوئی غیبی ہاتھ ہے جو بورڈ کو کنٹرول کر رہا ہے جیسا کہ ڈاکٹر اسما زہرا نے کہا ہے ؟ کیا واقعی بورڈ مسلم خواتین کے تحفظ کا ضامن نہیں رہا ؟ اگر ہے تو ڈاکٹر اسما زہرا سے جبراً معافی نامہ کیوں لکھوایا گیا ؟ آخر ایسی کیا وجہ تھی ؟ کیا بورڈ کے پاس ان سوالوں کے جوابات موجود ہیں ؟ کیا مسلم معاشرے میں بورڈ کی موجودہ کارکردگی کو لے کر جو بے چینی اور سوالات ہیں کیا بورڈ کے ذمہ داران ان سوالات اور بے چینیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے ؟ 




Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی