میرا قلم میری زباں
ہر سال دنیا بھر میں بارہ ربیع الاول کو عید میلاد النبی کے نام پر ایک جشن منایا جاتا ہے۔ جس میں بچے بوڑھے اور نوجوان سبھی شریک ہوتے ہیں اور ساتھ مل کر ایک جلوس بھی نکالتے ہیں۔ کچھ نوجوانوں کے سر پر ٹوپی، پیشانی پر عید میلاد النبی کا پٹہ، کانوں میں بالیاں، گلے پر چین اور لاکیٹ، ہاتھوں میں لبیک یا رسول اللہ کا جھنڈا اور بائک کی سواری لے کر گلی در گلی ، محلہ در محلہ راستوں اور سڑکوں پر نکل کر خوب نعرے بازی کرتے ہیں اور عید میلاد النبی کے نام پر خوب ہڑدنگ مچاتے ہیں۔ اس موقع پر بارہا ایسا دیکھا گیا کہ رقص و موسیقی کی محفلیں سجائی گئیں ۔ قوالوں کی بے ہودہ قوالی پر ٹھمکے لگائے گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں حد اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں اور یہ سارے کام وہ عید میلاد النبی کے نام پر کرتے ہیں۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے کہ ان میں اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں جو مسجد سے دور ہوتے ہیں۔ نمازوں سے بھاگتے ہیں۔ اذان سن کر شیطان کی مجلس شوریٰ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ سنتوں سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ وضع قطع ایسا کہ شیطان بھی شرمائے۔ کرتوت ایسے کہ ابلیس بھی پناہ مانگے۔ قرآن کی تلاوت صرف مردہ خوانی کے لئے رہ گئی۔ نماز صرف جمعہ کی پڑھیں گے۔ درود صرف میلاد پر پڑھیں گے۔ بچوں کو دینی تعلیم کے نام پر رسمی قرآن پڑھا کر اور کچھ دعائیں اور سنتیں رٹا کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کی دینی تعلیم کا حق ادا کر دیا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے لوگ دین محمدی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ انہیں نبی کا لایا ہوا دین اور شریعت نہیں چاہئے۔ نبی کی سنتیں ، عادتیں ، اخلاق و کردار ، تعلیم و تربیت ، جد و جہد ، ایثار و قربانی ، شوق شہادت اور نبی کا جذبۂ ایمانی نہیں چاہئے۔ انہیں
اسلامی سماج قبول نہیں۔ اسلامی نظام قبول نہیں۔ اسلامی تعلیم قبول نہیں۔ اسلامی لباس قبول نہیں۔ اسلامی طور طریقہ اور اسلامی روایات کو فرسودہ روایات سمجھتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر دنیا جہان کی رسمیں ادا کریں گے اگر ان سے کہا جائے کہ شریعت اور سنت کے مطابق شادی بیاہ کے معاملات طے کیجئے تو وہ شرم محسوس کرتے ہیں اور اللہ و رسول کے مقابلے میں دنیا اور دنیا داروں کو ترجیح دیتے ہیں اس وقت نبی کی عظمت ، الفت و محبت ، شان و شوکت اور ادب و احترام کا خیال نہیں رہتا۔ لیکن بارہ ربیع الاول آتے ہی نبی کی محبت کا بھوت سوار ہو جاتا ہے اور یہ دن گزرتے ہی پھر وہی دیس اور بھیس والی کیفیت نظر آنے لگتی ہے اور سال بھر کے لئے عشق رسول کے بھوت کو قید کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ نبی دنیا میں کیوں آتے تھے اور کس عظیم مقصد کے لئے ان پاک نفوس کو بھیجا جاتا تھا تو شاید کچھ بات بن جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں