موت کے ہاتھ میں ٹوپی جشن منائے گوپی

 موت کے ہاتھ میں ٹوپی جشن منائے گوپی

محمد طاہر ندوی



جشن اگر خوشی کے موقع پر منایا جائے تو اچھا لگتا ہے۔ لیکن جشن اگر موت پر منایا جائے ۔ کسی کی دنیا ختم ہو رہی ہو ۔ کسی کے خواب ٹوٹ رہے ہوں ۔ کسی کا ساتھ چھوٹ رہا ہو ۔ کسی کی کائنات لٹ رہی ہو ۔ کسی کی سانسیں دم توڑ رہی ہوں ۔ کوئی بے سہارا ہو رہا ہو ۔ کسی کی گود اجڑ رہی ہو ۔ کسی کے ماتھے کا سندور مٹ رہا ہو ۔ کسی کا سہاگ اجڑ رہا ہو ۔ کوئی یتیم ہو رہا ہو ۔ کسی کی سسکیاں بندھی ہو ۔ کسی کے آنسوں رواں ہوں اور کسی اپنے کو کھونے کے غم میں کوئی تڑپ رہا ہو ایسے موقع پر جشن نہیں بلکہ افسوس کیا جاتا ہے ۔ تعزیت کی جا تی ہے ۔ اس کے غم میں شریک ہو کر اس کی تکلیف کو بڑھانے کے بجائے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور انسانیت کا پیغام دیا جاتا ہے۔ 



ابھی کچھ دنوں قبل پورے ملک میں گربا رقص کے پروگرام منعقد کئے گئے تھے جو کہ خالص ہندوانہ تہوار ہے اور ایسے پروگرام میں مسلمانوں کی شرکت قابل مذمت ہے اور مسلمانوں کو ایسے تہواروں میں شریک ہونے سے بچنا چاہئے یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن معاملہ اس وقت گرم ہو گیا جب گجرات سے ایک حیران کن وڈیو منظر عام پر آئی جس میں کچھ مسلم نوجوانوں کو ایک بجلی کے پول سے باندھ کر پیٹا جا رہا ہے اور مارنے والے ملک کے محافظ خاکی وردی والے ہیں اور انسانیت کے محافظ تالیاں بجا رہے تھے اور اس منظر کے ذریعے اپنے دلوں کو راحت کا سامان مہیا کرا رہے تھے۔ 



ادھر گزشتہ کئی سالوں سے موت نے جیسے مسلمانوں کا پتہ معلوم کر لیا ہو ہر آئے دن کسی نہ کسی بہانے مسلمان کے گھر پہنچ جاتی ہے یا اسے ڈھونڈ نکالتی ہے پھر اس کا شکار کرتی ہے اور خود کو انسانیت کا علمبردار کہنے والے جشن مناتے نظر آتے ہیں۔ 

تاریخ کے صفحات پر ایسے کئی چہرے نمودار ہوئے اور پھر اوجھل ہو گئے جو موت پر جشن منایا کرتے تھے ۔ رقص و سرود کی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے ۔ جو خود کو موت و زیست کا اجارہ دار تصور کرتے تھے اور جو موت و حیات پر حکمرانی کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔ ہٹلر سے لے کر چنگیز خان اور ہلاکو خان تک ۔ اور نپولین سے لے کر مسولینی تک ۔ مسولینی کہا کرتا تھا کہ میں تاریخ کے صفحات پر اپنے خونی نشانات چھوڑ جاؤں گا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ میرے نشان شیر کے پنجوں کے نشانات سے مشابہ ہوں گے۔ یہ اس شخص کا کہنا تھا جس نے اپنی خوشی کے لئے پانچ لاکھ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ وہ مسولینی ختم ہو گیا ۔ اس کے نظریات مٹ گئے ۔ اس کے پیروکار ناپید ہو گئے ۔ اور تاریخ نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو ظالم و جابر ، سفاک قاتل اور انسانیت کا دشمن کے طور پر یاد رکھا ہے۔ 


 کیا یہ حقیقت آج کے گوپی اور موت کے سودا گر بھول بیٹھے ہیں کہ تاریخ نے ایسے لوگوں کا کیا حشر کیا ۔ کیا آج کے حکمراں فرانس کے بوربون خاندان کی حکمرانوں کو بھول گئے جس نے اپنے دربار میں اٹھارہ ہزار افراد رکھے تھے ۔ شاہی اصطبل میں انیس سو گھوڑے جن کی دیکھ بھال کے لئے چالیس لاکھ ڈالر سالانہ خرچ ہوتے تھے اور باورچی خانہ کا خرچ پندرہ لاکھ تھا اور دوسری طرف بھاری ٹیکس نافذ ہونے کی وجہ سے معیشت کی کمر ٹوٹ چکی تھی ۔ لاکھوں مزدور بے کار تھے ۔ اور فرانس کے جیل خانے معصوم اور بے قصور لوگوں سے بھرے پڑے تھے ۔ اور پھر 14 جولائی 1789 کا دن فرانس میں انقلاب کے اگتے سورج کا دن تھا جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ انقلاب تو آیا لیکن لاشوں کی ڈھیر پر سواری کرتے ہوئے ، چیخ و پکار کے درمیان ، آہ و فغاں کی آواز میں انقلاب فرانس آیا ۔ 

اپنی اقلیتوں کے ساتھ یہی حربہ اٹلی نے آزمایا ۔ ہسپانیہ نے آزمایا ۔ چین نے بھی آزمایا کہ یہ لوگ مرنے کے لئے ہوتے ہیں ۔ گاڑیاں آتی تھیں اور لاشوں کو خدا جانے کہاں لے جاتی تھی۔ ہزاروں تو بند دروازوں میں گیس سے ہلاک کر دیے گئے جن میں بزرگ بھی تھے ۔ نوجوان بھی تھے ۔ معصوم بچے اور بچیاں بھی تھیں اور جن میں خواتین بھی تھیں۔ 


جارج آرویل نے اپنی کتاب" 1984" میں ایک جملہ لکھا کہ " بگ برادر از واچنگ یو " اور آج ہر جگہ بی مشن کے سربراہ مسلمانوں کے تعاقب میں ہیں۔ ہر جگہ عام انسان پولیس اور فوج کی نگرانی میں ہے۔ بی مشن کے سربراہ اعظم بھری مجلس میں یہ کہتے ہیں کہ انہیں ان کے کپڑوں سے پہچانیے اور آج انہیں ان کے کپڑے ، ان کے لباس ، ان کی داڑھی ٹوپی کے ذریعے پہچان لیا گیا ہے اور موت کو اس کا ٹھکانہ بتا دیا گیا ۔ اب موت ہے اور ننگا ناچ ہے۔ اور اس ننگے ناچ میں ہمارا سماج ، ہمارے لوگ برابر کے شریک ہیں ۔ یہ ننگا ناچ آزادی کے دن سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ بابری مسجد کو شہید کیا گیا ۔ مسلمانوں کا خون بہایا گیا ۔ دوسری طرف چیل ، کوؤں اور گدھ نما سماج مسلمانوں کی لاشوں اور سسکیوں پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر مبارک باد دے رہے تھے۔ 


آج کے حکمرانوں کو ماضی کے ہٹلر کو یاد رکھنا چاہیے۔ چنگیز کی چنگیزی کو یاد رکھنا چاہیے ۔ ہلاکو خان۔ کی ہلاکت خیزی کو یاد رکھنا چاہیے ۔ نپولین اور مسولینی کی سفاکیت کو یاد رکھنا چاہیے جس نے لاکھوں کی تعداد کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا لیکن وقت کے ساتھ وہ بھی فراموش کر دیے گئے اور تاریخ کی کال کوٹھری میں دفن کر دیے گئے اور آج کوئی بھی انہیں اپنا آئیڈیل نہیں کہتا اور جو لوگ اس کے راستے پر چلتے ہیں ۔ ان کے نظریات کی پیروی کرتے ہیں ۔ ان کی آئیڈیالوجی کو مشعل راہ بناتے ہیں ان کا حشر اور انجام بھی وہی ہوتا ہے جو ان کا ہوا ۔ اس لئے آج کے حکمرانوں کو چاہئے کہ موت کا کھیل بند کریں ۔ سماج کو تقسیم کرنے کا تماشہ ختم کریں اور جو لوگ اس کھیل اور تماشے میں مصروف ہیں انہیں انسانیت کا درس دیں ۔ باہمی پیار و محبت سے رہنا سکھائیں ۔ اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کو فروغ دیں تاکہ موت مذہب دیکھ کر نہیں بلکہ اس کا وقت مقررہ دیکھ کر اس کے پاس آئے ۔








1 تبصرے

  1. کاش موت مذہب دیکھ کر نہیں بلکہ وقت مقررہ دیکھ کر آتی.......😥😥

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی