میری ڈائری قسط نمبر 13
مؤرخہ 19 مئی 2020
مجھے سارے سوالات کے جوابات مل چکے تھے۔ وہ مردِ مومن ایک نئی راہ دکھا گیا ، ایک نئی امنگ دلِ شکستہ کے حوالے کر گیا ، ایک نئی آرزو اور ایک جدید مقصد ناچیز کے سپرد کر گیا ۔
یہ تو میرے اللہ کا شکر ہے اس کا احسان ہے اس نے مجھے ضلالت و گمراہی کے دلدل سے نکال کر انوارِ ہدایت سے روشناس کرایا، تاریکیوں سے نکال کر صبحِ روشن کا دیدار کرایا، بحرِ ظلمات سے نکال کر ساحلِ سمندر سے ملاقات کرایا ،
موسیقی ، فلم بینی، اور رقص و سرود سے نکال کر ایک پاکیزہ اور مقدس کلام کی تلاوت اور اسکا نقش ذہن و قلب میں منقش فرمایا،
حلال و حرام کے مابین فرق کو واضح کردیا، نیکی اور بدی کو آشکارا کردیا، عارضی حبِ جاہ و منصب اور فنا ہو جانے والی دنیائے بے رنگ و بو کی محبت کو دل سے نکال کر عالمِ بقا اور لازوال جنت کی نعمتوں ، آرائشوں، آسائشوں اور راحت و آرام کی محبت دل میں پیوست کردیا،
اور بتا دیا " هذا سبيل ربك " یہ تیرے رب کا راستہ ہے۔
میرے رب نے مجھے ایک نئی زندگی عطا کی اور ایک اہم مقصد ، جبکہ میں اس قابل نہیں تھا ، گناہوں اور نافرمانیوں کا ایک غیر متزلزل بلند و بالا پہاڑ تھا، اور پہاڑ کی سب سے بلند چوٹی پر میرا نشیمن۔
لیکن اس کی رحمت بیکراں نے پہاڑ کو متزلزل اور ریزہ ریزہ کرکے رکھ دیا ، اور مجھے میرے نشیمن سے اتار کر دنیا
نشیب و فراز سے واقف کرایا اور دنیا کی حقیقت ، اسکی عارضی محبت ، اسکی چاہت ، اور اس کے حصول میں سرگرداں پھرنے والے ، اور در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے لوگوں کے احوال و واقعات سے آگہی ، اور اس کے خوفناک نتائج سے خبردار کرایا ۔
گزشتہ چار سال میری زندگی کی سب سے زیادہ تاریک ترین دور میں سے ایک دور تھا ، جس میں نماز ، عبادت ، ذکر و اذکار ، اور تلاوت قرآن جیسی کوئی چیز نہیں تھی
صرف گناہوں ، نافرمانیوں ، معاصی و جرائم ، شہوت پرستی ، لذت پرستی ، دنیا طلبی ، راحت پسندی ، اور عیش پرستی کا انبار تھا ۔
لیکن قربان جاؤں اس بزرگ و برتر رب کائنات پر جس نے اپنے نافرمان ، سرکش ، باغی، اسکے احکام کو دانستہ طور پر توڑنے والا ، اور اس کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرنے والے کو اپنی آغوش میں لیکر اس طرح درگزر کردیا جیسے ماں اپنی نافرمان اور سرکش اولاد کو معاف کرکے اپنے سینے سے لگا لیتی ہے۔
ادھر میں عزمِ مصمم کر چکا تھا اور خود کو تیار بھی کہ ذہن و دماغ کی ساری بندشوں کو شکست دے کر اس نور کو حاصل کرنا ہے ، جس کے راستے روشن اور تابناک ہیں، جس کی منتظر ایک خوبصورت منزل ہے، اور جس کا حاصل عشقِ حقیقی اور رضائے الٰہی۔۔۔۔۔!!
جاری۔۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں