میرا قلم میری زباں
محمد طاہر خان ندوی
ہندوستان کی ریاست اتراکھنڈ جسے دیوی دیوتاؤں کی رہائش گاہ ، زمین پر آسمان ، مقدس دریاؤں کا گھر بلکہ ہندوستان کی مقدس سر زمین بھی کہا جاتا ہے اسی ریاست کے ایک شہر ہلدوانی میں واقع ایک بستی جسے غفور بستی کہا جاتا ہے ۔ اس بستی میں بسنے والے ٩٥ فیصد وہ لوگ ہیں جنہیں مسلمان کہا جاتا ہے اور یہ بات تو اب ملک کا بچہ بچہ جان چکا ہے کہ اس ملک میں میم ہونا ہی جرم ہے بلکہ یوں کہئے کہ غیر قانونی ہے ۔ آپ لاکھ کاغذات دکھائیں ۔ ڈاکیومنٹ دکھائیں ۔ اپنے پرکھوں کی قبریں کھود کر ان کے بھی کاغذات نکال کر دکھا دیں تب بھی آپ غیر ملکی اور غیر قانونی تھے اور رہیں گے ۔ انہیں آپ کے آنسوؤں کی ذرہ برابر پرواہ نہیں ۔ آپ کے الفاظ اور قسموں کی ردی برابر کوئی اہمیت نہیں ۔ آپ کے کاغذات ڈسٹبین میں پڑے کچرے کے ڈھیر سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٢٠ دسمبر کو اتراکھنڈ کی ہائی کورٹ نے ہلدوانی کے ریلوے اسٹیشن کے اطراف میں تقریباً ٤٣٦٥ جو مکانات تعمیر ہیں انہیں منہدم کرنے اور زمین کو خالی کرنے کا حکم سنا دیا ہے اور یہ دعویٰ کر رہی ہے یہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے جس پر ہزاروں لوگوں نے ناجائز طور پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ جبکہ اس بستی کے کچھ باشندوں کے پاس آزادی سے قبل کے کاغذات موجود ہیں اور کچھ لوگوں کے پاس ١٩٢٠ اور ١٩٤٧ کے کاغذات موجود ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم ١٩٤٠ سے سرکار کو ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں لیکن ان تمام کاغذات اور ڈاکیومنٹ کے باوجود نہ تو وہاں کی انتظامیہ نے کوئی بات سنی اور نہ ہی اتراکھنڈ کی ہائی کورٹ نے اس طرف کوئی توجہ دی بلکہ فریق مخالف کے دعوے کو یکسر خارج کر دیا ۔
ہلدوانی کے اس علاقے میں ٩٥ فیصد مسلم آبادی ہے ۔ وہاں دو انٹر کالج ، دس مساجد ، دو مندر ، پانچ مدرسے ، دو بینک ، چار سرکاری اسکول اور دس سے بارہ پرائیویٹ اسکول بھی موجود ہیں لیکن پھر بھی انتظامیہ اور عدلیہ کا کہنا ہے کہ یہ مکانات غیر قانونی ہیں ۔ مکانات غیر قانونی نہیں ہیں بلکہ ان کی آنکھوں میں مسلم دشمنی صاف طور پر نظر آ رہی ہے اور یہ ساری کارروائی گزشتہ آٹھ سالوں سے ملک میں مسلمانوں کو لے کر جو فضا بنائی جا رہی ہے اسی کا نتیجہ ہے ۔ ہلدوانی سے پہلے بڑا اسٹیشن لال کنواں ہے اگر وہاں سے صفائی کی جاتی تو ہندؤوں کے سارے علاقے زد میں آتے اسی طرح ہلدوانی سے چھ کیلو میٹر دور کاٹھ گودام ہے وہاں بھی ہندو آباد ہیں لیکن ان علاقوں پر کوئی کارروائی نہیں اگر کاروائی ہو رہی ہے تو صرف مسلمانوں کے علاقوں میں اس لئے اب اس معاملے کو مسلم دشمنی کے طور پر ہی دیکھنا چاہئے۔

ہندوستان کے مسلمان اس وقت آزمائش کے دور سے گزر رہا ہے۔۔اور عنقریب اس پریشانی سے چھٹکارا حاصل ھوگا۔۔۔اللہ وسعت سے زیادہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتے ہیں۔۔لا يكلف الله نفسا إلا وسعها...اور ايك مشكل كے بعد ایک آسانی ہے۔۔
جواب دیںحذف کریںایک تبصرہ شائع کریں