یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ | محمد طاہر خان ندوی

 یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ 

محمد طاہر خان ندوی 



سیاست ایک ایسی دنیا ہے جسے اگر مایا جال کہا جائے تو شاید اس کی سب سے بہتر تعریف ہوگی کیوں کہ اس دنیا کے باشندے ہر لمحہ رنگ بدلتے ہیں ۔ کبھی چہرہ بدلتے ہیں کبھی روپ بدلتے ہیں ۔ کبھی اپنے مزاج و مذاق کو بدل دیتے ہیں تو کبھی اپنے انداز بیاں کو بدل دیتے ہیں ۔ اس دنیا میں کچھ لوگ اپنی صفوں کو بدل کر دوسری صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی پہچان تک بدل دیتے ہیں ۔ سیاست کے بارے میں ایک مشہور مقولہ ہے کہ میں سیاست ہوں اور میں کپڑے نہیں پہنتی ۔ یہ مقولہ آج کے سیاست دانوں پر بالکل صادق آتی ہے ۔ اسی طرح اگر کہا جائے کہ کبھی درشن نہیں ملتا ، کبھی درپن نہیں ملتا اور کبھی چہرے نہیں ملتے ۔ سیاست میں کون کب ، کس وقت اور کس مقام پر آپ کا ساتھ چھوڑ دے یہ کہنا بہت مشکل ہو گیا ہے ۔ پچھلے سالوں میں اگر دیکھا جائے تو ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ ایک طرف کانگریس پارٹی اپنے ڈوبتے ہوئے سورج کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی تو دوسری طرف اس مشکل گھڑی میں غلام نبی آزاد جیسے قد آور سیاست دان اپنے دامنِ داغدار کو سمیٹنے میں مصروف تھے اور یہ صورت حال صرف کانگریس کے ساتھ نہیں تھی بلکہ اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی ، مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی اور اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ بھی ہے ۔ 



پارٹی بدلنا ، چہرہ بدلنا ، گفتگو کا انداز بدلنا ، کپڑے کا رنگ اور سر کی ٹوپی کا عنوان بدلنا اب سیاست میں عام سی بات ہو گئی ہے ۔ اب ہمارے ہر دل عزیز وزیر اعظم نریندر مودی کو ہی دیکھ لیجئے کہ جس شہر میں گئے اور جس ریاست میں قدم رکھا یہاں تک کہ جس ملک کی سیر کی وہاں اپنا رنگ روپ ، چال ڈھال ، بول چال سب بدل دیتے ہیں اور ایک چہرے میں ہزار روپ کے مانند بن جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو کہنا پڑتا ہے کہ بھائی یہ شخص روپ بدلنے میں کس قدر مہارت رکھتا ہے کہ جادو نگری کا کوئی جادو گر اور سرکس ڈپارٹمنٹ کا کوئی جوکر بھی شاید اتنے روپ دھارن نہ کر سکے لیکن جناب کے کیا کہنے پر دن ایک نئے روپ میں نظر آتے ہیں خیر یہ تو ہمارے وزیر اعظم صاحب کی بات ہو گئی ۔ 

یہ رنگ و روپ کا بدلنا صرف ہندوستان کے وزیر اعظم کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ یہ خصوصیت کانگریسیوں میں بھی پائی جاتی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آج بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر چہرے بدلنے کی ادا کانگریس سے آئی ہے تو بالکل حق بجانب ہوگا ۔ کیوں کہ کانگریس اپنے دور اقتدار میں جس طرح سے مسلمانوں کا استعمال اور استحصال کر رہی تھی اور جس طرح سے مسلمانوں کے مسائل کو فراموش کرکے نمائشی کھلونے پیش کر رہی تھی یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی ۔ ہندوستان میں کانگریس ہی ایک ایسی سیکولر پارٹی تھی جس پر از اول تا آخر مسلمانوں نے سب سے زیادہ بھروسہ کیا اور کیوں نہ کرتے جبکہ اس پارٹی کی قیادت مولانا ابوالکلام آزاد جیسی شخصیت نے کی ۔ مولانا محمد علی جوہر نے کی ۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور حکیم اجمل خاں جیسے عظیم مسلم قائدین نے کی لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ جتنا مسلمانوں کا استعمال اور استحصال کانگریس کے دور میں ہوا اتنا کسی دور میں نہیں ہوا ۔ 

آزادی کے پچھتر سال گزر گئے ہیں اور آج کا مسلمان سب سے پسماندہ قوم بن کر رہ گیا ہے بلکہ اس کی پسماندگی کی حد تو یہ ہے کہ آج مسلمان دلتوں سے بھی بدتر پوزیشن میں پہنچ چکا ہے اور یہ بات محض وہم و گمان والی بات نہیں بلکہ سچر کمیٹی کی یہ وہ رپورٹ ہے جو کانگریس کے دور میں بڑی جانفشانی کے ساتھ تیار ہوئی تھی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ ڈبل گیم کھیلا ، جب مسلمانوں کو اس کی ضرورت پڑی اس وقت کانگریس نے اپنا اصل چہرہ دکھا کر مسلمانوں کو ان کی اوقات بتا دی ۔ بابری مسجد تنازعے میں بھی کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنے کی کوشش کی اور ہندو ووٹس کے لئے رام مندر کا تالا کھلوایا اور پوجا پاٹ کرنے کی اجازت دی اور جب ستائیس سال بعد بی جے پی کے دور اقتدار میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا فیصلہ سنایا گیا اس وقت بھی راہل گاندھی اور ان کی پارٹی میڈیا کے سامنے رام مندر کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس سب کے باوجود راہل گاندھی اور ان کی پارٹی ایسے بہت سے مواقع پر مسلمانوں کے ساتھ بلکہ دیش کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے ۔ چاہے وہ موقع سی اے اے اور این آر سی کو لے کر جو پورے ملک میں احتجاج چل رہے تھے اور پورا ملک شاہین باغ بنا ہوا تھا اس وقت کانگریس اور راہل گاندھی ملک کے ساتھ کھڑے تھے ۔ چاہے وہ موقع دہلی کے جہانگیر پوری کا ہو جس میں یک طرفہ طور پر مسلمانوں پر کاروائی کی گئی اس وقت بھی راہل گاندھی مظلوم کے ساتھ کھڑے تھے اور ایسے کئی موقعوں پر راہل گاندھی دیش کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور آج بھی پورے ملک کو جوڑنے کے لئے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے کنیا کماری سے کشمیر تک کا سفر پیدل طئے کر رہے ہیں اور اس یاترا کے ذریعے وہ دلوں کو جوڑنے میں لگے ہیں ۔ ایک نئی امنگ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ کم ہمتی کے شکار لوگوں کو عزم و حوصلہ دینا چاہتے ہیں ۔ ڈر اور خوف کو ختم کرکے پیار و محبت کی شمع جلانا چاہتے ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ راہل گاندھی کی اس یاترا کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگ جڑ رہے ہیں اور لوگوں میں ایک نئی پہچان ، نئی امنگ ، نئے حوصلے اور نیا جذبہ پیدا ہو رہا ہے ۔


یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ 

مگر وہی تو بہت کامیاب چہرا تھا 

عنبر بہرائچی



3 تبصرے

  1. سیاست اور سیاست دان ابن الوقت ہوتا ہے جدھر فائدہ دیکھا ادھر مڑ گئے۔۔۔اور کرسی کے خاطر اپنوں کا بھی قربانی دیدیتے ھین

    جواب دیںحذف کریں
  2. اس دور میں سب سے مظلوم قوم اگر کوئی ہے تو وہ مسلمان ہے۔۔اوراسکے باوجود مسلمان سدھرنے کا کوشش نہیں کر رہے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی