میرا قلم میری زباں
محمد طاہر خان ندوی
گزشتہ آٹھ دس سالوں میں ملک کی ایسی حالت کر دی گئی ہے کہ اب انتظامی امور کے ہر شعبے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے ۔ وہ شعبے جو آزاد تھے اب غلامی کا طوق ڈال کر اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ای ڈی سے لے کر الیکشن کمیشن تک اور این آئی اے سے لے کر قانون اور عدالتوں تک ۔ ملک کا ہر شعبہ موجودہ سرکار کی ماتحتی اور زیر دست کام کر رہا ہے ۔ ان دنوں مودی سرکار کے الیکشن کمیشن کو لے کر سپریم کورٹ نے بہت بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اس ملک میں کس طرح کام کرتی ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کس طرح ہوتی ہے اور اس کے کیا قاعدے اور ضابطے ہیں؟ اور یہ سوال ارون گوئل کو الیکشن کمشنر بنائے جانے پر سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے اٹھایا ہے۔ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے مودی سرکار کے الیکشن کمیشن پر کہ پچھلے آٹھ سالوں میں چھ چیف الیکشن کمشنر کا تبادلہ ہوا ہے آخر مودی سرکار ایسا کیوں کر رہی ہے اور اس کے پیچھے اس کے کیا مقاصد ہیں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے۔ 1950 میں جب الیکشن کمیشن بنا تھا اس وقت ایک ہی کمشنر ہوا کرتے تھے وہ بھی اٹھ سالوں تک پھر ان کی میعاد کو چھ سال کر دیا گیا۔ اس وقت الیکشن کمیشن قانون اور آئین کے مطابق کام کرتی تھی اور یہ بات اس وقت راجیو گاندھی نے بھی برداشت نہیں کیا جس طرح آج مودی سرکار کو یہ برداشت نہیں کہ قانون اور عدلیہ کا کوئی شعبہ آزادی سے اپنا کام کرے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسا چیف الیکشن کمشنر چاہئے جسے مودی سرکار بلڈوز نہ کر سکے اور یہ کہا کہ ہمیں ٹی این شیشن جیسا چیف الیکشن کمشنر چاہئے جو 1990 سے 1996 تک چیف الیکشن کمشنر تھے اور سب سے اہم سوال یہ کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں جو پینل ہوتا ہے اس میں چیف جسٹس آف انڈیا کا رہنا ضروری ہے تاکہ غیر جانب داری سے الیکشن کمیشن کے چیف کا تقرر ہو سکے۔ مودی سرکار کے الیکشن کمیشن پر سپریم کورٹ کا اس طرح اعتراض کرنا اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے۔ گزشتہ آٹھ دس سالوں سے سرکار نے ای ڈی ، این آئی اے اور عدلیہ کا اپنے مخالفین کے خلاف جس طرح سے ناجائز استحصال کیا ہے آج الیکشن کمیشن کا استحصال ہو رہا ہے اور جو لوگ اس شعبے میں رہ کر اپنے فرائض کو انجام دینا چاہتے ہیں انہیں دستبردار کر دیا جاتا ہے اور ان کے پیچھے ای ڈی اور این آئی اے کو لگا کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن پر سوال اٹھانا ایک اچھی علامت ہے لیکن کیا الیکشن کمیشن کو لے کر سپریم کورٹ نے جو کچھ کہا ہے اس پر عمل کیا جائے گا ؟ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں