میرا قلم میری زباں

 میرا قلم میری زباں 

 محمد طاہر ندوی 



ایک روح تھی کہ پرواز کر گئی۔ ایک جان تھی کہ جسد خاکی کو الوداع کہہ دیا۔ وہ کسی کی کل کائنات تھی جو لٹ گئی۔ اسے اپنی عزت پیاری تھی۔ وہ ان فاحشہ عورتوں میں نہیں تھی جو اپنے جسم کا سودا کرتی ہیں اور اپنی عزت کو غیروں کے سامنے نیلام کرتی ہیں وہ شاید کچھ مختلف تھی اسی لئے ایکسٹرا سروس دینے سے انکار کر دیا ورنہ گدھوں کی اس دنیا میں ایسی بے شمار عورتیں ہیں جو ہر دن نئے بستروں کو گرم کرتی ہیں اور ہر دن نئے مرد کی تلاش میں رہتی ہیں لیکن وہ ایسی نہیں تھی۔ وہ شاید بازارو بھی نہیں۔ وہ اپنے جسم کا سودا کرنے والوں میں سے بھی نہیں تھی لیکن وہ انجان اور بے خبر تھی کہ جسے وہ اپنا دوست سمجھ رہی تھی وہ اپنے بازوؤں میں خنجر چھپائے بیٹھا تھا۔ وہ شاید بہت معصوم تھی اس لئے دوست اور دشمن میں فرق نہ کر سکی۔ وہ تو محض ایک رزورٹ کی ریسپشنسٹ تھی جس کا کام ہی مسکرا کر آنے والوں کا استقبال کرنا تھا لیکن وہ اپنے انجام سے بے خبر تھی کہ یہی مسکراہٹ ایک درد ناک موت کا سبب بننے والی ہے۔ وہ کسی وی آئی پی کے لئے ایک رات کی خوابوں کی شہزادی اور اس کے بستر کی زینت نہیں بننا چاہتی تھی اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی اور سب سے بڑا جرم تھا کیوں کہ جس بدبودار سماج میں ہم رہتے ہیں وہاں نا کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور عورت وہ تو ٹیشو پیپر ہے جسے استعمال کیا جائے اور پھینک دیا جائے اسی لئے تو ہمارا ملک مہان ہے کیوں کہ یہاں دیویوں کی پوجا آرتی اتار کر نہیں بلکہ کپڑے اتار کی جاتی ہے۔ ہم بڑے عجیب ملک کے باشندے ہیں۔ یہاں انسان نہیں گدھ بستے ہیں اور اگر انسان ہیں تو انسان نما لومڑی ہیں دھوکہ دہی مکر و فریب رگ رگ میں پنہاں ہیں اب اتراکھنڈ کے سی ایم دھامی کو ہی دیکھ لیجئے کہہ رہے ہیں کہ ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی بالکل اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ اس رزورٹ پر بلڈوزر کا قہر پہلے ہی رات و رات ٹوٹ پڑا ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے لیکن صاحب کہہ رہے ہیں کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجرموں کو معاف کرکے جرم کی سنگینی پر بات کرتے ہیں۔ قصورواروں کو چھوڑ کر عدل و انصاف کی بات کرتے ہیں۔ اگر یہ انسان ہوتے تو سب سے پہلے یہ واضح ہوتا کہ کہ وہ وی آئی پی کون تھے جس کے لئے انکیتا بھنڈاری کو ایکسٹرا سروس کے لئے دس ہزار دینے کی بات ہو رہی تھی؟ 






Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی