وحشی درندے اور ان کے نگہبان
طاہر ندوی
ایک وقت تھا جب حکمراں طبقہ اپنے عوام کی جان و مال ، عزت و آبرو کے امین و نگہبان ہوا کرتے تھے ، حقوق کی پاسداری کیا کرتے ، بڑوں کا احترام ، چھوٹوں پر شفقت ، یتیموں اور غریبوں کی حمایت کیا کرتے ، ان کا خیال رکھا کرتے ، ان کی ضروریات پوری کر دیا کرتے ، وقت کے حکمراں اپنے پیٹھ پر ساز و سامان اٹھا کر بذاتِ خود غریبوں کو دیتے ، رات کی تاریکی میں جب سب لوگ سو رہے ہوتے تو قوم و ملت کا درد رکھنے والے کچھ اصحابِ خیر حضرات پریشان اور مصیبت زدہ لوگوں کی خبر گیری کرنے نکل جاتے اور فرماتے " مجھے آپ نے اپنا امیر منتخب کیا ہے اور امیر قوم کا خادم ہوا کرتا ہے " اس وقت امیر و غریب ، حاکم و محکوم ، بادشاہ و فقیر سب برابر تھے یہ اسلام اور اسلام کے ماننے والوں کے کچھ احوال و آثار تھے اور یہی وجہ تھی جس کے بارے میں مہاتما گاندھی نے اپنے اخبار " ہریجن میں 1937 کو کہا تھا کہ میں اپنے کانگریسی وزیروں کو یہ مشورہ دینے پر مجبور ہوں کہ آپ کو سادگی پسند ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں رام اور کرشن کو اپنا آئیڈیل بنانے کی بجائے ابو بکر و عمر ( رضی اللہ عنہما ) کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہئے ۔
پھر بد اخلاقی اور بد کرداری کا دور شروع ہوا لوگوں کے اخلاق فاسد ہوتے گئے ، نیتوں میں خباثت آگئی ، حکمرانوں کے اندر حب جاہ و منصب نے اپنا ڈیرہ ڈال دیا ، غریبوں اور مسکینوں کا استحصال ہونے لگا ، قوم و ملت کے پاسبان راہزن بن گئے ، عزت و آبرو کے محافظ وحشی درندے اور بھیڑیے بن گئے ، ان کے اندر سے انسانیت ختم ہوگئی اور حیوانیت جنم لے چکی ، ان کے اندر سے غیرت و حمیت دم توڑ چکی اور بے غیرتی کی ساری حدیں پار کر چکے اور حیرت تو تب ہوتی ہے اور آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں جب ایسے درندوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ، ان کے لئے جشن کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ، ان کو اپنے گھروں میں پناہ دی جاتی ہے ۔
گزشتہ چند سالوں سے ملک کی ایسی بدتر حالت ہے کہ لکھتے اور سوچتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ ملک کے ایک سماج کے ساتھ ایسی زیادتی اور ایسی نفرت کہ روح بھی کانپ اٹھے آپ کو حیرت ہوگی کہ ابھی جند دنوں قبل ایک دلت سماج کی لڑکی جس کو کچھ درندوں اور وحشیوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا پھر اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ ڈالی اور اس کی زبان تک کاٹ ڈالی وہ کہتی رہی کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن ہاتھرس ضلع کی پولیس انتظامیہ ایک ہفتے تک ایف آئی آر تک درج نہیں کرتی ہے اور ٹھاکر برادری کے لوگ متاثرہ خاندان کو ڈرا دھمکا کر معاملہ کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ چاروں وحشی درندوں کو بی جے پی کے ایک لیڈر اپنے گھر میں تحفظ بھی فراہم کرتی ہے ، متاثرہ کے لئے نہ کسی ایمبولینس کا انتظام نہ کسی ہاسپیٹل کا بندوست ، نہ کسی نے بہتر ہاسپیٹل میں ایڈمٹ کرایا اور نہ کسی نے سیٹی اسکین کرایا ، اس کے ماں باپ ، اس کے گھر والے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے اور سرکار اور سرکار کی طرف داری کرنے والے خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے اور بالآخر حالات کی ماری اور اپنی قسمت پہ روتی اس بہن نے زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے اس نفرت کدے اور تعصب پرست دنیا کو الوداع کہہ دیا ؛
لیکن ابھی اس معصوم پر مزید ظلم ہونا باقی تھا ، اپنے حصے کی تکلیف کو سہنا ابھی باقی تھا ، اس کے آنسوؤں کو سمندر بننا باقی تھا ، ابھی ظالموں کے ظلم کی انتہا نہیں ہوئی تھی ابھی بہت کچھ سہنا باقی تھا ، وہ دنیا سے جا چکی تھی لیکن جسم درندوں کے پاس تھا اور جسم کو ٹھکانے لگانا ضروری تھا تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کی ماں روتی رہی تڑپتی رہی ، منتیں اور سماجتیں کرتی رہی لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور بالآخر اہل خانہ کے بغیر ہی اس کی نعش کو آگ کے حوالے کر دیا گیا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک ہفتے تک ایف آئی آر درج کیوں نہیں کیا گیا ؟ سیٹی اسکین کیوں نہیں کرایا گیا ؟ صفدر گنج کی بجائے دہلی کے ایمس میں علاج کیوں نہیں کرایا گیا ؟ نعش کو گھر کے سپرد کیوں نہیں کیا گیا ؟ اہل خانہ کے بغیر ہی لاش کو آگ کے حوالے کیوں کیا گیا ؟
اور یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے حادثات کب تک پیش آتے رہیں گے ؟ کب تک بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کو پامال کیا جاتا رہے گا ؟ کب تک ذات اور برادری کی بنا پر کسی کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا ؟ کب تک پولیس انتظامیہ ذات اور دھرم کی بنیاد پر کاروائی کرتی رہے گی ؟ آخر کب تک سرکار لاشوں پر سیاست کرتی رہے گی اور اپنی سیاسی زندگی کو چمکاتی رہے گی ؟ آخر کب تک وحشی درندوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا رہے گا ؟ آخر کب تک حکومت ان کی پشت پناہی کرتی رہے گی ؟ آخر کب تک ؟؟؟
Contact number 7667039936


ایک تبصرہ شائع کریں