یہ چمن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے
طاہر ندوی
جمشیدپور جھارکھنڈ
یہ چمن آخر کس کا ہے ؟ اور اس کے پاسباں و نگہباں کون ہیں ؟ کیا آر ایس ایس اور بی جے پی اس ملک کی پاسبانی کریں گے جس نے انگریزی سامراج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور معافی تلافی کرکے انگریزوں کے وفادار بن گئے ، جس نے ہمیشہ ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور آج بھی نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
ایسے لوگ جس نے ملک سے غداری کی ، انگریزوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ، مہاتما گاندھی کا قتل کیا ، ترنگے کو جلایا ، قومی یک جہتی کو پامال کیا ایسے لوگ اس ملک کی پاسبانی اور نگہبانی نہیں کر سکتے تو آخر اس ملک کے پاسباں و نگہباں کون ہیں ؟؟
جنگ آزادی کے موقع پر تمام ادیان و مذاھب اور مسالک کے لوگوں نے بڑی جانفشانی سے انگریزی سامراج کا مقابلہ کیا اور ملک کو غلامی کی زنجیر سے آزاد کرایا اور اپنے عوام کو کھلی فضاؤں میں زندگی گزر بسر کرنے کا موقع فراہم کیا ۔
یہ چمن جس کو کبیر و نانک اور چشتی کی یادگار کہا جاتا ہے ، جہاں ایک طرف کیبر داس کی نظموں اور گیتوں سے دلوں کو حوصلہ ملا تو دوسری طرف گرو نانک کی وعظ و نصیحت سے جسم و روح کو طاقت و توانائی ملی ۔ جہاں ایک طرف خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے خیر خواہانہ اور مشفقانہ انداز گفتگو سے دلوں میں ایمان کی روشنی جگائی تو دوسری طرف مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر امبیڈکر جیسے لوگوں نے دلوں میں ہمت ، استقامت اور حوصلے کو جگایا ، جہاں ایک طرف سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، اسیر مالٹا شیخ العرب والعجم حسین احمد مدنی ، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ، مولانا حسرت موہانی ، قاسم نانوتوی اور ابو الکلام آزاد دہلوی جیسی شخصیات نے عزم و ہمت اور بہادری و استقامت کے ذریعہ انگریزی سامراج کا مقابلہ کیا تو دوسری طرف مہاتما گاندھی ، ڈاکٹر امبیڈکر ، جواہر لال نہرو ، سردار پٹیل ، بھگت سنگھ جیسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے خون جگر سے اس ملک کی آب یاری کی ، دشمنوں کا مقابلہ کیا اور اس ملک کو زندگی گزارنے اور سانس لینے کے قابل بنایا ۔
ایک وقت تھا جب" ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں سب بھائی بھائی اور آواز دو ہم کو ہم ایک ہیں " کا نعرہ لگایا کرتے تھے ، قدم سے قدم ملا کر چلا کرتے تھے ، ہم ایک دوسرے کی طاقت ہوا کرتے تھے ، ایک دوسرے کی جان ہوا کرتے تھے ، کبھی مولانا ابوالکلام آزاد گاندھی جی سے ملاقات کرتے کبھی گاندھی جی مولانا کے پاس چلے آتے ، وہ بھی کیا دن تھے جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور اے پی جے عبد الکلام ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کر لیتے گپ شپ لگا لیا کرتے تھے ۔
پھر ہندوستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دور کا آغاز ہوا ، کتاب جہاں میں نفرت و عداوت ، ظلم و زیادتی ، اعلیٰ و اسفل ، ذات اور برادری ، قوم و نسل کی برتری ، اسلام اور کفر کی مارا ماری کا تاریک ترین باب کا آغاز ہوا جس نے ملک کی فضا کو بدل دیا ، مذہبی منافرت کی جنگ چھیڑ دی گئی ، ذات اور برادری میں لوگوں کو تقسیم کر دیا گیا ، آب و ہوا میں ہندو اور مسلم کا رنگ چھڑا دیا گیا ، دلوں سے الفت و محبت نکال کر نفرت و عداوت کی بیج ڈال دی گئی ، جو اس چمن کے رکھوالے تھے ان کو فتنہ پر ور اور ملک و قوم کے لئے فساد کا ذریعہ بنا دیا گیا اور جس نے اس چمن کو برباد کیا ، اس کے پھولوں کو روندا ، باغبانوں کا قتل عام کیا آج وہ رکھوالی بن گئے ، قاتل کو منصف بنا دیا گیا ، مجرم کو نیک دل اور نیک انسان بنا دیا گیا ۔
ایسے موقع پر " سیدہ فرحت " کی ایک نظم کا تذکرہ کرنا بہت مناسب معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے شاید اسی موقع پر کہا ہو :
قدم ملا کے چلو حوصلہ بڑھا کے چلو
دلوں میں حب وطن کا دیا جلا کے چلو
وطن کی جان ہو تم اور وطن تمہارا ہے
کہ باغباں ہو تم یہ چمن تمہارا ہے
بڑھاؤ ہاتھ کہ ہر علم و فن تمہارا ہے
کبیر و نانک ہو چشتی کی یادگار ہو تم
جہاں میں گاندھی و نہرو کے ورثہ دار ہو تم
زمیں پہ امن و محبت کے پاس دار ہو تم
قدم ملا کے چلو حوصلہ بڑھا کے چلو
دلوں میں حب وطن کا دیا جلا کے چلو


ایک تبصرہ شائع کریں