ناانصافی کی شکار : بابری مسجد
محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ
نو نومبر 2019 ہندوستانی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا، جب ملک کی سب سے بڑی عدلیہ ( سپریم کورٹ ) نے بابری مسجد کی وقف شدہ اراضی کو رام مندر کے لئے دے دیا۔
آزادی کے بعد مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات کا اگر جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ زندگیوں پر اپنا اثر ڈالنے والا اور سب سے زیادہ جس کا صدمہ آج تک ملت اسلامیہ ہند محسوس کر رہی ہے وہ ہے 1992 کا سانحہ جس دن مسجد شہید کر دی گئی اور اس کے بعد 9 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی اراضی کو رام مندر کے ٹرسٹ کے لئے دے دیا، یہ ایسا سانحہ تھا جس نے بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں اور بالعموم عالم اسلام کو بہت بڑے صدمے سے دوچار کر دیا ۔
بابری مسجد کی شہادت ایک Secular Attack تھا، یہ صرف ایک مسجد، مندر یا چرچ کی شہادت نہیں تھی بلکہ یہ جمہوریت کی شہادت تھی، آئینی ڈھانچے کی شہادت تھی، دستور و قوانین کی شہادت تھی، عدل و انصاف کی شہادت تھی، پیار و محبت ، اتحاد و یک جہتی ، امن و آشتی کی شہادت تھی، اس ملک میں جو عدلیہ پر، قوانین پر، جوڈیشل سسٹم پر اور ملک میں عدل و انصاف کے محافظوں پر جو اعتماد اور بھروسہ تھا اس اعتماد اور بھروسہ کی شہادت تھی ۔
بابری مسجد کے ساتھ ناانصافی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چئیرمن او ایم اے سلام کہتے ہیں کہ 1949 کو جب مسجد میں ایک مورتی رکھی گئی تھی اس وقت کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اس کو باہر پھینک دو لیکن عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تھا کہ بابری مسجد پر حملہ غیر قانونی تھا، 1949 میں مسجد کے اندر مورتی کو رکھنا غیر قانونی تھا اور کسی زمانے میں یہاں مندر تھی جسے توڑ کر مسجد بنائی گئی اس کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے لیکن سارے ثبوتوں، گواہوں، دلیلوں اور تاریخی شواہد کے باوجود مسجد کو مندر بنانے کے لئے دینا انڈین جوڈیشل سسٹم کے خلاف تھا لیکن پورے جوڈیشل سسٹم کو سائیڈ میں رکھ کر صرف اکثریت کو راضی کرنے کے لئے جمہوریت کی قربانی دے دی گئی ۔
بابری مسجد کا ایشو صرف مسلمانوں کا ایشو نہیں ہے، بلکہ یہ پوری قوم کا ایشو ہے کیوں کہ ایک جمہوری ملک میں مندر یا مسجد پر حملہ کرنا، اسے زمیں بوس کرنا اور پھر اس کی اراضی کو محض عقیدت و آستھا کی بنیاد پر جمہوریت کا قتل کرنا، آئین و دستور کو پاش پاش کرنا، قوانین و ضوابط کو سائیڈ رکھنا اور پورے جوڈیشل سسٹم کو نظر انداز کرنا صرف مسلمانوں کا ایشو نہیں ہو سکتا بلکہ یہ پورے ملک کا ایشو ہے، یہ جمہوریت کا ایشو ہے ، یہ ڈیموکریسی کا ایشو ہے، یہ آئین و دستور کا ایشو ہے اگر ڈیموکریسی کو ختم کر دیا جائے تو خطرے میں صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ ہندو بھی ہیں سکھ بھی ہیں عیسائی بھی ہیں دلت اور آدی واسی بھی ہیں اس لیے سب کو مل کر بابری مسجد کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگا ، جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگا ۔
یاد رکھئے قومیں دو طرح کی ہوتی ہیں ایک وہ جو بےحس ہوتی ہیں، احساسات سے محروم ہوتی ہیں، اپنے مستقبل کے بارے لاپرواہ اور بے پرواہ ہوتی ہیں تو ایسی قوم اپنے حقوق سے بھی محروم ہو جاتی ہے اور پستی و غلامی کی زندگی بسر کرنے پر نہ خود مجبور ہوتے ہیں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی مجبور کر دیتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو احساسات رکھنے والے، مستقبل کی فکر رکھنے والے جو سمجھتے ہیں کہ عروج کیا ہے زوال کیا ہے اور اپنے حقوق کے لئے کوشش کرتے ہیں تاکہ باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں تو ایسے لوگ قوم کی خدمت کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں اور ایک روشن مستقبل ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے ۔
یہ بھی یاد رکھئے کہ ہمارے لئے سب سے Important چیز مسجد ہے اگر مسجد کی حفاظت ہوگی ، مسجد کا تحفظ ہوگا تو ہمارے جان و مال کا تحفظ ہوگا، اگر مسجد کا تحفظ ہوگا تو ہماری عزتیں اور آبروئیں محفوظ رہیں گی، مسجد بچے گی تو ہمارے گھر بچیں گے، مسجد بچے گی تو دکان و مکان ہماری تمام تر تجارت بچے گی اگر مسجد کو چھوڑ دیا تو زوال کے شکار ہو جائیں گے اور ہجومی تشدد کا نشانہ بن جائیں گے اس لئے ہمیں اپنی تاریخ کو یاد رکھنا ہے اور اسے اپنے نسلوں تک پہنچانا ہے کہ بابری مسجد کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور ایک مسلمان کبھی بھی مسجد سے دستبردار نہیں ہو سکتا ۔


ایک تبصرہ شائع کریں