بی جے پی کا سیاسی ایجنڈا مذہبی منافرت پر مبنی ہے

 بی جے پی کا سیاسی ایجنڈا مذہبی منافرت پر مبنی ہے

محمد طاہر ندوی

امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ 



نفرت پھیلا کر سیاست کرنا سیاست دانوں کے یہاں قدیم رواج رہا ہے اور بی جے پی اس کھیل میں ہمیشہ سر فہرست رہی ہے ابھی حالیہ دنوں میں سادھوی پرگیہ سنگھ جس پر دہشت گردی کے الزامات لگے ہیں اور قسمت دیکھئے کہ بھوپال کے ایک علاقے کی ایم پی بھی ہیں وہ نمازوں کو لے کر سرکاری افسران کی ڈانٹ ڈپٹ کرتی ہوئی نظر آئیں ۔


یوگی آدیتیہ ناتھ جو اتر پردیش کے منسٹر ہیں ایک نیوز چینل سے بات چیت کے دوران کہتے ہیں ہیں کہ پاکستان کی جیت کا جشن منانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا اگر آپ ہندوستان میں رہتے ہیں تو ہر صورت آپ کو اپنے ملک کا احترام کرنا ہوگا اگر آپ بھارت میں رہ کر بھارت کا اناج کھا کر پاکستان کی سر زمین کی تعریف کریں گے تو آپ کو اسی لائق بنا دیا جائے گا جس طرح بھارتی فوج ان لوگوں کو بناتی ہے ۔



واضح ہو کہ میڈیا کے ذریعے جشن منانے والی خبر بالکل بے بنیاد تھی جس میں کوئی حقیقت نہیں تھی دراصل وہ پٹاخے ایک شادی کے جشن کے موقع پر پھوڑے گئے تھے نا کہ پاکستان کی جیت کے جشن میں اور اس کی تصدیق ملک کے معروف صحافی جناب ابھیسار شرما نے کی ہے اور کہا کہ یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ بھارت میں پاکستان کی جیت کا جشن منایا گیا ہے لیکن یوگی جی کو تو بس اپنے اندر کا زہر نکالنا تھا سو کہہ دیا کہ ایسے لوگوں پر ملک سے غداری کا الزام لگایا جائے گا۔ 


گزشتہ دنوں نرسمہا نند کی شاگردہ مدھو شرما جسے ماں مدھورا بھی کہا جاتا ہے ٹرین میں ایک مسلم شخص کو مارتے اور گالیاں دیتے نظر آئیں جب تھپڑوں سے من کو شانتی نہیں ملی تو پیر چھونے پر مجبور کیا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ روپا گنگولی کی مسلمانوں کے تئیں مذہبی منافرت دیکھئے وہ کہتی ہیں کہ مسلم عورتیں ایک بچہ پیٹ میں ایک اپنی گود میں اور چار بچوں کو پیچھے کی لائن میں لے کر چلتی ہیں آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ اب عورتیں بھی مذہبی منافرت کے گھناؤنے کھیل میں آ گئیں ہیں۔

گزشتہ دنوں کپڑے کے برانڈ " فیب انڈیا " کو محض اردو لفظ کے استعمال پر ہندوتوا کا شدید سامنا کرنا پڑا تھا۔ نفرت اب اس قدر بڑھ گئی ہے کہ بنگلور میں مندر کے افتتاح کے موقع پر مسلم ماس کی دکانوں کو جبراً بند کرایا گیا اور بند کروانے کے بعد دکان کو تہس نہس بھی کر دیا گیا۔

15 اکتوبر دشہرا تھا یعنی ہندوانہ مذہب میں برائی پر اچھائی کی جیت کا دن لیکن اسی دن ہندوتوا وادی کے شر پسندوں نے بہار کے نالندہ ضلع میں الگ الگ تین واردات میں تین مسلم نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور یہ پیغام دیا کہ آج اچھائی پر برائی کی جیت کا دن ہے ، یہ لوگ پہلے مذہب پوچھتے ہیں اگر آپ مسلم ہیں تو آپ کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، آپ کو اور آپ کے دین کو گالیاں دی جائیں گی، آپ کی آئی ڈی دیکھ کر آپ کو محلہ یا بستی سے نکال دیا جائے گا، اگر آپ ایک سبزی فروش ہیں تو اور مسلم بھی تو آپ کی شامت آ جائے گی، اگر آپ ریڑھی والے ہیں تو آپ کو اپنے گھر خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑے گا اور ممکن ہے آپ کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جائے ۔ 


آزادی سے قبل اس طرح کی سیاست بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے لیکن آزادی کے بعد سیاست کا انداز بالکل بدل سا گیا ہے، ہر طرف نفرت و عداوت کے سوداگر مذہبی منافرت کا سودا اپنی دکانوں میں لے کر فروخت کر رہے ہیں جب تک کانگریس کی حکومت تھی یہ نفرت و عداوت اور مذہبی منافرت کا بازار اتنے زوروں پر نہیں تھا، ہندو مسلم کے نام پر فسادات ضرور ہوتے تھے لیکن بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد طرز حکومت و سیاست یکسر تبدیل ہو گیا اور آئے دن ایسے فسادات، واقعات اور سانحات دیکھنے اور سننے کو ملنے لگے جو مذہبی منافرت پر مبنی تھے، کبھی دلتوں کے خلاف، کبھی عیسائیوں کے خلاف تو کبھی مسلمانوں کے خلاف ۔ 


ملک ہندوستان کا مقدر اب زوال کی جانب اپنا قدم بڑھا رہا ہے اور کافی حد تک زوال کا شکار بھی ہو چکا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک زوال کے دلدل سے نکل جائے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے اخلاق کو درست کرنا ہوگا، طرز حکومت کو بدلنا ہوگا، سیاست کی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، اربابِ اقتدار کو اقلیت طبقہ کا احساس کرنا ہوگا، مظلوموں کی فریاد اور ان کی صدا پر لبیک کہنا ہوگا، مذہبی منافرت کی بجائے دوسرے مذاہب کا احترام کرنا ہوگا، نفرت کی بجائے پیار و محبت اور تشدد کی بجائے امن و آشتی کا پیغام دینا ہوگا ۔ 




Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی