اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2022 مسلمان کیا کرے ؟
طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر
اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا اعلان آتے ہی نام نہاد سیکولر پارٹیاں میدان میں اتر چکی ہیں۔ مسلم ووٹس جو ریاست میں 20فیصدی ہے جو کسی بھی پارٹی کو اقتدار تک پہنچا سکتی اور اتار بھی سکتی ہے انہیں طرح طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے لبھانے کی کوشش بھی زوروں پر ہے۔ مسلم چہروں کو ٹکٹ دی جارہی ہے۔ انہیں امیدوار بنایا جا رہا ہے۔ کہیں پھولوں کے ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا جا رہا ہے تاکہ کسی طرح سیکولر پارٹیاں کرسئی اقتدار تک پہنچ جائیں اور اس کے بعد مسلمانوں کو حاشیہ پر رکھ کر سیاست کے گھوڑے پر سوار ہو کر سواری کے لطف اٹھائیں۔
آزادی کے بعد مسلمان
آزادی کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا جو آج ہو رہا ہے۔ تمام سیکولر پارٹیاں جو آج سیکولر ہونے کا ڈھونگ رچا رہی ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف پوری منصوبہ بندی کے ساتھ انہیں تعلیمی، سیاسی اور اقتصادی میدانوں سے دور رکھا ۔ انہیں سیاسی اعتبار سے بانجھ بنا کر رکھا گیا۔ تعلیمی اور معاشی اعتبار سے ان کی کمر توڑ دی گئی۔ تاکہ کسی صورت یہ سیاست کے ایوانوں تک نہ پہنچ سکیں۔
آزادی کے بعد سے مسلمان کانگریس کے سہارے چلتے رہے۔ انہیں اپنا مسیحا بنائے رکھا۔ آنکھیں بند کرکے ان پر بھروسہ کرتے رہے اور کانگریس نے بھی اس موقع کا پورا پورا فایدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو سیاسی، تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کی طرف دھکیلتی رہی اور جب تک مسلمانوں کو ہوش آتا بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بہوجن سماج وادی پارٹی اور ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کا سہارا لینا شروع کر دیا بجائے اس کے کہ مسلمانوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا اور اپنے سیاسی شعور کو بیدار کرتے ہوئے ایک منظم اور مستحکم پارٹی کی تشکیل کرتے جس میں صرف مسلمانوں کی نمائیندگی نہیں بلکہ ملک کے تمام ہی اقلیت طبقے کے مظلوموں کی نمائندگی ہوتی لیکن ٹھوکر کھانے کے بعد بھی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے ۔
قائدین کا کردار
مسلمانوں کو سیاست سے پیچھے رکھنے میں جہاں غیروں نے اپنا کردار ادا کیا ہے وہیں ہمارے قائدین نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آزادی سے قبل ہمارے علماء بیک وقت محدث بھی تھے، فقیہ بھی تھے مدرس بھی تھے، امام و خطیب بھی تھے لیکن ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین سیاست دان بھی تھے، سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے ایک بہترین قائد بھی تھے لیکن آزادی کے بعد منبر و محراب سے اور جلسوں جلوسوں سے صرف مسلمانوں کو نماز و روزہ، حج و صدقات اور ذکر و تسبیحات تک محدود رکھنے کی صدائیں لگائی گئیں اور سیاست سے دور رہنے اور سیاست کو مکروہ عمل بتایا گیا جس کی وجہ سے مسلمانوں نے خود کو سیاست سے دور کر لیا۔
اب یوپی کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ جس میں مسلمانوں کی ووٹ کی بڑی اہمیت ہوگی۔ یہ الیکشن ہی مسلمانوں کا مستقبل طئے کرے گا۔ اب ضرورت ہے کہ مسلمانانِ اتر پردیش اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کو سامنے رکھتے ہوئے کسی ایسے لیڈر کو منتخب کرے جس میں انسانیت کے لئے کچھ کرنے کا جزبہ ہو۔ اقلیت کے مظلوم طبقے کے لئے آواز اٹھاتا ہو۔ مسلمانوں کے مسائل پر کھل کر بولتا ہو ۔ یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ کس پارٹی سے ہے ، کس مذہب سے ہے اور کس ذات سے ہے اگر وہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھل کر لڑتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسے ہی لیڈران کا انتخاب کیا جائے تاکہ ملک میں امن و امان باقی رہے ۔


ایک تبصرہ شائع کریں