#میرے_ماموں_جان_اللہ_کو_پیارے_ہو_گئے
فجر کے بعد دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی یہ خبر ملی کہ میرے ماموں " کامل حسن فردوسی " اپنے محبوب حقیقی سے جاملے رحمۃ اللہ علیہ الواسعۃ ۔
میرے ماموں محمڈن لائن ساکچی جمشیدپور کے رہنے والے تھے ۔ اللہ نے انہیں دین و دنیا دونوں سے خوب نوازا تھا ۔ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سعودی عرب کے " تبرجل " نامی خطے میں گزار دیا۔ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ساتھ اپنے پورے خاندان کی فکر رکھتے تھے۔ جب کسی کو کوئی ضرورت پیش آ جاتی فوراََ اس کی مدد کرتے ۔ ہمیشہ عید اور بقرعید کے موقع پر اپنی چھوٹی بہنوں کے گھر فون کرتے اور خیریت دریافت کرتے اور خرچے کے طور پر کچھ رقم بھجوا دیا کرتے تھے۔
اللہ نے انہیں دنیا کے ساتھ ساتھ حصول علم دین کا شوق و ذوق بھی خوب عطا فرمایا تھا ۔ تبرجل میں اپنے ایک کمرے کو کتب خانے میں تبدیل کردیا تھا ۔ بے شمار نایاب اور قیمتی کتابیں موجود تھیں۔ ہمیشہ مطالعہ میں رہتے ۔ جب دوکان میں کوئی خریدار نہ ہوتا تو فوراً کتب بینی میں مصروف ہو جاتے۔ قرآن پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ صرف الفاظ پر نہیں بلکہ معانی پر بھی نظر تھی۔ کثرت مطالعہ اور دیگر کچھ ضعف کی بنا پر آخری زمانے میں آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی تھی لیکن اس حال میں بھی ہمیشہ قرآن کی تلاوت کرتے اور موبائل پر ترجمے سنا کرتے تھے ۔
جب تک وہ باہر تھے بہت کم ملاقات ہوئی لیکن جب وہ اپنے وطن ہمیشہ کے لئے واپس آئے اور خاص کر جب ہمارے علاقے " ہلدی پوکھر " میں قیام کیا ( تقریباً چھ مہینے قیام تھا ) تو روزانہ ان سے ملاقات ہوتی ۔ کبھی کسی آیت کے بارے سوال کرتے ، کبھی کسی مسئلہ پر خوب بحث چلتی ۔ کبھی کسی کتاب یا اس کے مصنف کے بارے سوال کرتے اور کبھی اپنے تجربات کو بیان کرتے۔
آج سے ایک سال قبل اپنی دوسری شریک حیات کے ساتھ وہ شہر حیدرآباد منتقل ہو گئے تھے ۔ آخر تک مجھ سے کہتے رہے کہ یہاں آجاؤ ، یہاں آکر مسجد کی تلاش کرو لیکن شاید اللہ کو منظور نہ تھا میں ارادہ ہی کرتا رہا اور بالآخر وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔
اللہ ان کے سارے گناہوں کو معاف فرمائے۔ ان کے علم و عمل کو قبول کرے ۔ ان کی دینی خدمات کو قبول کرے ۔ ان کی مغفرت فرمائے ان کے درجات کو بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
✍️طاہر ندوی
ایک تبصرہ شائع کریں