محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر
ہمارے ملک میں گزشتہ چند سالوں سے نفرت کا جنگل راج قائم ہے۔ اور اس پُر خار جنگل کی آب یاری و پاسداری آر ایس ایس کے فرمانروا، آئین ہند کے ازلی دشمن، ہندو مسلم فساد کے داعی اول، برہمنوں کی بالا دستی کے علم بردار موہن بھاگوت ہے، جس نے مختلف شعبوں میں نفرت اور دشمنی کا کھیل کھیلنے کے لئے مختلف تنظیمیں قائم کی اور انہی تنظیموں میں سے ایک تنظیم بھارتی جنتا پارٹی بھی ہے جو مسلم سماج کے ساتھ نفرت اور دشمنی کا مکروہ کھیل کھیل رہی ہے۔
تشدد پسند آر ایس ایس کی اگر بات کی جائے تو اس تنظیم کی بہت سی تنظیمیں ہیں جیسے سیاسی محاذ پر" بی جے پی " کام کرتی ہے، مذہبی محاذ پر" وشو ہندو پریشد " کام کرتی ہے، حفاظتی محاذ پر " بجرنگ دل "موجود ہے، تعلیمی محاذ پر " اے بی وی پی " کام کرتی ہے، مزدوروں کے لئے " بھارتیہ مزدور سنگھ" موجود ہے، انٹلکچول طبقات کے لئے " وچار منچ " ہے، خواتین کے محاذ پر سنگھ پریوار کی چار تنظیمیں سرگرم ہیں۔ "راشٹریہ سیویکا سمیتی" "درگا واہنی" "ماتر شکتی" اور" بی جے پی مہیلا مورچہ"۔ یہ ساری تنظیمیں پھر اس کی ذیلی شاخیں جو ملک اور بیرون ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ان سب کا واحد مقصد ہندو راشٹر قائم کرنا، ہندو احیاء پرستی کے لئے اپنے شوہر اور اپنی اولاد کی ذہن سازی کرنا، مسلمانوں سے نفرت کرنا، مغلوں کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر انہیں پیش کرنا، نفرتی اور زہریلا مواد تیار کرنا اور اس کی اشاعت کرنا بھی شامل ہے۔ اور اب پچھلے کچھ عرصہ سے مسلمانوں میں بھی کام کرنے کے لئے آر ایس ایس نے دو تنظیم " مسلم راشٹریہ منچ اور جماعت علماء" بھی قائم کر لی ہے۔ جو سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلانا، ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات بھرنا، ان کے سامنے " ہندی مسلمان " کا نظریہ پیش کرنا اور انہیں سافٹ ہندی مسلمان بنانا بھی شامل ہے ۔ ان جیسی اور بھی بہت سی تنظیمیں ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کی کل ٨٢ تنظیمیں ہیں جو ملک بھر میں سرگرم ہیں۔
سیاسی محاذ پر جو جماعت ( بی جے پی ) کام کر رہی ہے جو گزشتہ چند سالوں سے ملک میں برسرِ اقتدار ہے؛ مذہب کی سیاست، ذات پات کی سیاست، اونچی ذات اور نچلی ذات کی سیاست، نفرتوں کی سیاست، مندر و مسجد کی سیاست اور رنگ و نسل کی سیاست کو اپنےمینو فیسٹو میں شامل کر لیا ہے۔ مذہب کے نام پر دنگے کراتی ہے۔ ہندؤں کو دھرم کی آڑ میں زہریلا شربت پلاتی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے۔ مسلم حکمرانوں کو راہزن ، قاتل اور زانی بناکر پیش کرتی ہے۔ مسلم حکمرانوں کے روشن ادوار کو سیاہ اور بدترین دور بتاتی ہے۔ کبھی مندر و مسجد کے نام پر اکساتی ہے تو کبھی مسلم اوقاف کو ناجائز اور Illegal بتاتی ہے۔
نفرتوں کی اگر بات کی جائے تو اس جماعت کا ہر فرد اپنے اندر دنیا جہان کی نفرتیں لئے بیٹھا ہے۔ گویا مسلمانوں سے اور مسلمانوں کے ورثے سے نفرت انکی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان کی نفرتوں کا حال دیکھئے کہ انہوں نے ان شہروں، دیہاتوں اور سڑکوں کے نام بدل دئے جس سے کسی مسلم شخصیت یا مسلم شناخت پائی جاتی تھی اور یہ کام بڑی تیزی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ پھر مسلمانوں کی معیشت کو ختم کرنے کے لئے ذبیحہ پر پابندی لگائی گئی۔ چمڑے کے کاروبار کو عام اور متوسط طبقات سے چھین کر کچھ مخصوص اور اپنے قریبی لوگوں کے حوالے کر دیا۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی معیشت کمزور ہوئی۔ جی ایس ٹی کی وجہ سے بھی مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا بالخصوص مئو ناتھ بھنجن، اعظم گڑھ اور بنارس کے مسلمانوں کو جو پاور لومس کے ساتھ منسلک تھے۔ ان کی معیشت کی بالکل کمر توڑ دی گئی۔ لو جہاد، گھر واپسی اور گئو کشی کے نام پر ان کو ہراساں کیا گیا، ان کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ ماب لنچنگ کے ذریعے مسلمانوں کا قتل کیا گیا۔ لیکن حکومت خاموش رہی اور مجرموں کی پشت پناہی کرتی رہی۔ اور مزید بالائے ستم یہ کہ ان مجرموں کو حکومت کے ایوانوں میں جگہ دی گئی۔
اب نفرت کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ نئے طریقے ایجاد ہوئے ہیں۔ یوپی میں جب سے یوگی آدیتیہ ناتھ کی سرکار آئی ہے۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے مزید دروازے کھل گئے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ " قاتل نے قتل کرنے کا قانونی طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے"۔ گھروں کو غیر قانونی بتا کر بلڈوزر چلانے کا دور۔ حکومت و اقتدار کے نشے میں چور ہو کر ، عدالتی کارروائی کو بالائے طاق رکھ کر ، غریبوں ، محتاجوں اور ضرورت مندوں سے بے فکر ہو کر گھروں کو مسمار کرنے کا دور شروع ہوا ہے۔ جس میں مسلمانوں کو خاص کر نشانہ بنایا گیا ہے۔ جہانگیر پوری معاملہ سمیت کئی علاقوں میں یہ کاروائی کی گئی ہے۔ کہیں مسجدوں کو مسمار کیا گیا، کہیں مدرسہ کے اسٹاف کوارٹر کو منہدم کر دیا گیا۔ اور اب تازہ معاملہ پریاگ راج ( الٰہ آباد) کا ہے۔
آفرین فاطمہ جو کہ جے این یو کی طالبہ ہیں۔ سماجی کار کن ہیں۔ سی اے اے مخالف تحریک کا ایک اہم حصہ رہی ہیں۔ یوگی و مودی سرکار کی کھوکھلا پالیسیوں کی کھل کر تنقید کرنے والی ایک بے خوف طالبہ ہیں۔ ان کے والد محمد جاوید احمد جو کہ ویلفئیر پارٹی آف انڈیا کے لیڈر اور سی اے اے مخالف تحریک کا ایک نمایاں چہرہ ہیں۔ آپ ان دونوں کے پس منظر کو دیکھئے کہ یوگی سرکار کو اور کیا چاہئے تھا اسے تو بس ایک موقع چاہئے تھا ان کے گھر پر بلڈوزر چلانے کا اور وہ موقع ناموس رسالت کی خاطر احتجاج کرنے والوں کے ذریعے مل گیا پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گھر کو مسمار کر دیا گیا۔ اس طرح یوگی سرکار نے اپنے مسلم دشمنی کھیل کو انجام بھی دیا اور اپنے ناقدین کے پرتعیش گھر کو ملبے کا ڈھیر بھی بنا دیا۔
ان کی نفرت کا اندازہ تو ہو چکا ہوگا کہ کس طرح سیاست اور مذہب کی آڑ میں نفرت کا جنگل راج قائم ہے۔ یہ نفرتیں کیسے ختم ہوں گی؟ ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق کیسے قائم ہوگا؟ ملک میں امن و امان، چین و سکون کیسے بحال ہو؟ جیسے بہت سے سوالات ہیں جو ذہن میں گردش کرتے ہوئے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش میں لگے ہیں۔
ویسے ایک بات بتاتے چلیں کہ گجرات فساد کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت اس وقت کے آر ایس ایس کے سربراہ " کے سدرشن " کے پاس گئے ہوئے تھے۔ ملاقات ہوئی اور بتایا کہ کیا کوئی ایسی صورت ہے جس سے ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق قائم ہو جائے۔ تو آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ " ایک صورت ہے وہ یہ کہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام ہی بر حق اور سچا دین ہے " یہ کہنا چھوڑ دیجئے بلکہ یوں کہئے " اسلام بھی بر حق اور سچا دین ہے " تو ہمارے درمیان مفاہمت و مصالحت ہو سکتی ہے۔
آگے آپ خود سمجھ دار ہیں اتنا تو سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔
خیر اللہ سے دعا ہے کہ اللہ اس ملک کو ہمارے لئے سازگار بنائے۔ ہم اپنے دین و مذہب اور پورے اسلامی تشخصات کے ساتھ اس ملک میں باقی رہیں۔ آمین
ایک تبصرہ شائع کریں