طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر
جمہوریت کا سب سے بڑا اور سب سے اہم عنصر آزادی ہوتا ہے، اب آزادی چاہے جس نوعیت کی ہو، کچھ آزادی شخصی اور اجتماعی نوعیت کی ہوتی ہے، کچھ آزادی لکھنے پڑھنے سے متعلق ہوتی ہے، کچھ آزادی حق اور سچ بولنے کی ہوتی ہے، کچھ آزادی اظہار رائے کی ہوتی ہے، کچھ آزادی حکمران طبقے سے احتساب کی ہوتی ہے اور کچھ آزادی اپنے مذہب پر چلنے اور پھیلانے کی ہوتی ہے لیکن یہ بات بہت افسوس کی ہے کہ اس ملک میں جمہوری نظام نافذ ہوئے صرف 71 سال ہی گذرے ہیں اور جمہوریت کے پنے بکھرتے نظر آرہے ہیں۔
جمہوری ملک کیسا ہوتا ہے
ایک جمہوری ملک اپنے باشندوں کو پر امن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن جس طرح سے اس آئینی حق کو کچلا گیا، حکومت مخالف مظاہرین پر ملک سے دشمنی کا لیبل لگایا گیا، مخالفین کو جیل میں ڈالا گیا، ان پر این ایس اے اور یو اے پی اے جیسے سخت قوانین لگائے گئے یہ دیکھ کر نہیں لگتا کہ ملک ہندوستان میں جمہوریت کا نظام باقی ہے۔
ایک جمہوری ملک میں عدالتی نظام اور صحافیوں کو پوری آزادی دی جاتی ہے کہ وہ ذات اور برادری کی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر اپنے فریضے کو انجام دیں، انھیں پوری آزادی ہوتی ہے کہ وہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی نشاندھی کرکے ملک کی عوام کو غیر جانبدار طریقے پر آگاہ کرے لیکن جمہوریت کے پنے یہاں بھی بکھرتے نظر آئے جب سپریم کورٹ کے چار سینئیر ججوں نے ایک عوامی کانفرنس کے ذریعے کہا کہ "جمہوریت خطرے میں ہے اب چیف جسٹس عدالتی اصولوں کے خلاف اپنی پسند کے مطابق مختلف کیسیز متعین کرتے ہیں"۔
ہمارا میڈیا
اس ملک کا میڈیا جسے جمہوری ملک کا سب سے مضبوط ستون کہا جاتا ہے اس نے بھی بے شرمی اور غلامی کی ساری حدیں پار کردیں۔ جسے غیر جانبدار ہو کر حق و باطل، سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرنا تھا، حکومت کی پالیسیوں کا غیر جانبدار طریقے سے تجزیہ کر کے اس کے فائدے اور نقصان کو سامنے رکھنا تھا لیکن میڈیا نے اپنے ضمیر کا سودا کرکے حکومت کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر اور ایک مخصوص طبقے کو خوش کرنے کی خاطر مذہبی منافرت پر اتر آئی ہے جس کی وجہ سے اس ملک کو پوری دنیا میں شرمسار ہونا پڑ رہا ہے۔
اس گئے گزرے دور میں بھی کچھ میڈیا ہاؤس اور صحافی موجود ہیں جو پوری ایمانداری سے اپنا کام کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں لیکن بدلے میں انھیں ہراساں کیا جاتا ہے، غدار کہا جاتا ہے، پڑوسی ملک کا ایجینٹ کہا جاتا ہے، ان کے ساتھ ڈبیٹ نہیں کیا جاتا، ان کے پروگرام میں شرکت نہیں کی جاتی صرف اس لئے کو وہ چاپلوسی پر نہیں بلکہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، غلامی کے بجائے آزادی کی بات کرنا پسند کرتے ہیں ایسے بیباک میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے یہ سب ایک جمہوری ملک میں جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے۔
اختلاف اور احتجاج کی گنجائش بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کو لے کر جو طلبہ اور طالبات یونیورسٹی کے اندر کر رہے تھے انھیں گرفتار کیا گیا۔ سخت سے سخت قوانین لگائے گئے۔ پر امن طریقے سے جو لوگ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے انھیں ملک کا دشمن کہا گیا۔ طلباء اور طالبات پر لاٹھیاں چلائی گئی۔ کیمپس میں داخل ہو کر انھیں زدو کوب کیا گیا۔ بھارت کے وہ کسان جو حکومت کی غلط پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے انھیں خالصتان کہا گیا۔ جو معصوم تھے ان پر کاروائی کی گئی۔ انھیں جیل میں ڈالا گیا اور مجرموں کو آزاد رکھا گیا۔ انھیں عہدے دئے گئے۔ انھی کرسی پر بٹھایا گیا یہ حالت ایک ایسے ملک کی ہے جسے اپنی جمہوریت اور اپنے آئین پر ناز تھا اب وہی جمہوریت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ملک کی اکثریت جمہوری حقوق سے محروم ہو کر رہ گئی ہے۔
جمہوریت کو بچائیے
لہذا جمہوری حقوق کو پامال کرنے والی طاقتوں کو روکنے کے لئے اور سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کے نعرے کو حقیقت کا جامہ پہنانے کے لئے سیکولر پارٹیوں اور منصف مزاج لوگوں کو آگے آنا چاہیے تاکہ سب کے حقوق محفوظ رہیں اور سب کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم ہو ورنہ بقول ایک فرانسیسی اسکالر کرسٹوف کہ: " اگر ہندوستان کے یہی حالات رہے تو جمہوری حقوق چند نسلی گروہوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے گا۔ انتہا پسندی اس حد تک پہنچ جائے گی جہاں سے لوٹنا ناممکن ہوگا"۔


ایک تبصرہ شائع کریں