وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

 وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں 

محمد طاہر ندوی

امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ 



انسان ارتقاء آزادی سے وابستہ ہے ، انسان اگر آزاد ہو تو اسکی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، عقل و شعور کو تازگی، خیالات و تصورات کو بالیدگی، عزم و استقلال کو قوت ارادی، ذہن و دماغ کو بالغ نظری، اور افکارو نظریات کو نشوونما ملتی ہے۔


15 اگست 1947 کو برادرانِ وطنِ عزیز نے انگریزوں کی غلامی کا طوق اتار کر غلاموں کی غلامی کا طوق زیب تن کرلیا جو کہ کروڑہا کروڑ درجے کی بدترین غلامی کی علامت تھی۔ پہلے انگریزوں کے غلام تھے اور اب مادہ پرست، انتہا پسند، فرعونی و طاغوتی طاقت و قوت کے مالک، ظلم و بربریت کے علمبردار، مطلق العنان ظالم و جابر اور غاصب حکمران، کارپوریٹ سیکٹر کے پروردہ ، اور نفرت و عداوت کے ٹھیکیدار گودی میڈیا کے غلام ہیں۔

آزادی ایک تحفہ ہے 

آزادی ایک تحفہ ہے ، ایک خواب ہے، ایک خوبصورت احساس ہے، ایک نعمت ہے ، اور ایک ذمہ داری کا نام ہے۔ آزادی کا جزبہ ایک فطری جزبہ ہے جو باشندگانِ عالم کے تمام انسانوں میں جاں گزیں ہوتا ہے ۔


کارگاہِ ہستی میں موجود تمام انسانوں کی ایک مشترکہ خواہش، تمنا اور آرزو ہوتی ہے کہ انکی زندگی میں کسی غیر کی اجارہ داری اور تسلط کارفرما نہ ہو بلکہ زندگی گزارنے کے لئے وہ آزاد ہوں ، کھلی فضاؤں میں وہ سانسیں لے سکیں ، آسمانوں سے باتیں کرسکیں ، بادلوں سے مزاح کر سکیں ، ہواؤں سے تبادلئہ خیال کر سکیں ، چرند و پرند کے ہمراہ نغمہ ساز بن سکیں ، اور برادرانِ وطنِ عزیز سے پیار و محبت کا اظہار کر سکیں ۔ 


ایسی آزادی کا تصوّر ہر شخص کرتا ہے لیکن یہ تصورات صرف عالم تخیلات کو مزین اور خوبصورت بناتے ہیں ۔

آزادی کا یہ تصور ایک خوبصورت نما خواب ہے جس میں ایک طویل عرصے سے ہم باشندگانِ وطنِ عزیز کو سیر و تفریح کرایا جا رہا ہے۔


آزادی کا یہ تصور و فلسفہ سرکاری محکمے اور دفاتر میں مدفون اور گرد آلود دستاویزات کی زیب و زینت سے زیادہ کچھ نہیں ۔

آزادی کا یہ تصور صرف فاشسٹ حکمرانوں، سرمایہ داروں، انتہا پسندوں، اور دوسروں پر اجارہ داری قائم کرنے والوں کی موروثی دولت بن چکی ہے۔


حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی صرف دفتری کاغذات تک سمٹ کر رہ گئی ہے اور آج تک اس کا نفاذ نہ ہو سکا اور تعجب کی بات تو یہ کہ باشندگانِ وطنِ عزیز برملا یہ اعلان کرتے انکی زبانیں نہیں تھکتیں کہ ہم ایک آزاد اور جمہوری ملک کے باشندے ہیں۔

اصل آزادی کا مطلب 

ہمارے وطنِ عزیز کو حقیقی آزادی اس وقت میسر ہوگی جب غربت و افلاس کا خاتمہ، بے روزگاری کا سدِ باب، ناخواندگی کا حل، ظلم و ستم، قتل و خون ریزی، تعصب و انتہا پسندی، نفرت و بیزاری اور باہمی منافرت پھیلانے والوں پر قدغن، اور جب تک منو واد سے آزادی نہ مل جائے اس وقت تک حقیقی آزادی کا راگ الاپنا حماقت ، کم عقلی اور خود فریبی سے زیادہ کچھ نہیں۔


حقیقی آزادی تو یہ ہے کہ کسانوں کو انکی فصل کے مناسب دام ملے، انکی مجبوری کا استحصال نہ کیا جائے، روز افزوں خود کشی کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

 دلتوں ( جو ملک کے اصل باشندے ہیں) اور پسماندگی کا شکار طبقات کو جو ہزارہا سالوں سے برہمنوں کی غلامی کرنے پر مجبور ہیں انکے حقوق فراہم کئے جائیں، ان کو مشقِ ستم نہ بنایا جائے۔

 غرباء و مساکین اور فقراء کو ایک خوش گوار اور بہتر سے بہتر مستقبل فراہم کی جائے، ان کو زیورِ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کیا جائے، ان کو معاشرے اور سوسائٹی کا جزوِ لاینفک سمجھا جائے، ان کی غریبی، تنگدستی ، فاقہ کشی، اور بدحالی کو مضحکہ خیز نہ بنایا جائے۔

ملک میں بودو باش اختیار کر نے والے تمام انسانوں کو درسِ محبت کا پیغام دیا جائے، باہمی نفرت و عداوت اور ظلم و تشدد کا پرچار کرنے والوں کو پابندِ سلاسل کیا جائے، تمام باشندگانِ ملک کو اوّل درجے کا شہری تسلیم کیا جائے، 

ہر طرح کی بھید بھاؤ اور اعلیٰ و اسفل نظریاتی جنگ کا خاتمہ کیا جائے، مساویانہ حقوق کو نافذ کیا جائے، ملک میں روز افزوں بڑھتی بے روزگاری، ناخواندگی، اور دیگر انسانی مقتضیات سے متعلق مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔


اگر کسی ملک کے باشندے خوف و ہراس کے گہرے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں تو حقیقت میں وہ آزاد نہیں ہیں۔

اگر کسی ملک کے باشندے دہشتناک فضاؤں میں سانس لینے پر مجبور ہوں اور امن و امان، سکون و اطمینان سے محروم القسمت ہوں تو حقیقت میں وہ آزاد نہیں ہیں۔


اگر کسی ملک کے شہریوں پر ہمیشہ خطروں اور اندیشوں کی تلوار معلّق ہو ، ان کی زندگی کو جہنم رسید کرنے کی کوشش کی جارہی ہو، ہر طرف سے ان پر عرصئہ حیات تنگ کی جا رہی ہو، وطنِ عزیز سے متعلق ان کی محبت کو شکوک وشبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہو ، مذہبی تشخصات پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہوں، ان کی طرزِ زندگی اور ملبوسات کو تشدد پسند عناصر گردانا جا رہا ہو،

تو حقیقت میں وہ آزاد نہیں ہیں۔

اگر ماؤں کا گلشن، بہنوں کی عصمت و عفت اور بیٹیوں کی زندگی محفوظ نہ ہو، بھوک و پیاس کی شدت سے شیر خواروں اور نونہالوں کے رونے اور بلکنے کی آوازیں حکومتِ وقت کی درو دیوار سے نہ ٹکرائیں،ان کے رونگٹے کھڑے نہ ہوں، تو حقیقت میں وہ آزاد نہیں ہیں۔

جہاں ماب لنچنگ کے ذریعے ایک خاص طبقہ کو زدو کوب کرنا آسان ہو، انسانوں سے زیادہ جانوروں کی جان کی قیمت اور اہمیت دی جاتی ہو، جہاں محافظ قاتل کا حرزِ جاں بن جائے، جہاں منصف ظالم کا رفیق سفر بن جائے تو حقیقت میں وہ ملک اور اس کے باشندے آزاد نہیں ہیں۔


بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو تو

بہار لائی ہے کیسی بہار دیکھو تو

یہ کیا ہوا کہ سلامت نہیں کوئی دامن

چمن میں پھول کھلے ہیں کہ خار دیکھو تو

اگر بہار چمن تم اسی کو کہتے ہو

تو اس طرح کی بہار چمن سے کیا ہوگا۔۔۔


اسی خیال کو فیض احمد فیض نے یوں پیش کیا ۔


یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں


ہمارے اسلاف نے آزادی کا جو خواب دیکھا اور اس کے لئے قربانیاں دیں ، مالٹا کی اسیری اور کالا پانی جیسی سزاؤں کو برداشت کیا ، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آزادی کا جو خواب سجایا ، مہاتما گاندھی کی بے لوث خدمات ، بھگت سنگھ کا تختہ دار پے مسکراتے پھانسی کے پھندے کو اپنے گلے سے لگا لینا ، یہ قربانیاں ایسی آزادی کے لئے نہیں تھیں بلکہ ذات برادری ، بھید بھاؤ سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لئے تھیں ، جس میں اظہارِ خیال کی آزادی ، حکومت وقت سے احتساب کی آزادی ، سوال کرنے کی آزادی ، اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے اور لڑنے کی آزادی ، حق بولنے کی آزادی ، اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی ، عدل و انصاف میں برابری ، روزگاری میں مساویانہ حقوق ، اور تعلیم و تربیت حاصل کرنے کی آزادی۔

یہ وہ آزادی ہے جس کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا ۔ یہ ہماری بد نصیبی اور بدقسمتی ہے کہ آزادی کے 73 سال بعد بھی زمام اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھ نہیں آئی جو حقیقی معنوں میں عوام الناس کو آزادی کا معنیٰ و مفہوم سمجھا سکے۔

حقیقی آزادی کا تصوّر تو اسلام نے پیش کیا۔ جب مصر کا ایک شخص خلیفہ وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دربار میں حاضر ہوکر یہ عرض کرتا ہے کہ امیر المومنین: میں ایک گھڑ سوار ہوں اور گھڑ سواری کے مقابلے میں حصہ لیا اس مقابلے میں مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بھی شریک تھے میرا گھوڑا آگے نکل گیا تو وہ غصے میں آ گئے اور انھوں نے مجھے ایک کوڑا مارا اور کہا " میں معزز ماں باپ کا بیٹا ہوں" اب آپ ہی انصاف فرما ئیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا اور مصر کے گورنر اور انکے بیٹے کو بلا بھیجا جب وہ دونوں حاضر خدمت ہوئے تو معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آپ نے مصری سے فرمایا اپنا بدلہ لو اس نے اپنا بدلہ لیا۔ پھر آپ نے فرمایا عمرو بن العاص کے چندیا پر بھی ایک کوڑا لگاؤ۔ اس نے کہا امیر المومنین میں نے اپنا بدلہ لے لیا ہے۔

اس کے بعد آپ نے ایک تاریخی جملہ فرمایا جس کو کتب تواریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا گیا

" متىٰ استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحراراً " 

کہ تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کردیا جبکہ انکی ماؤں نے انہیں آزاد جنا ہے۔


قربان جائیں مذہب اسلام پر جس نے آزادی کا معنیٰ و مفہوم سمجھا یا اور حقیقی آزادی کسے کہتے ہیں آشکارا کردیا اور اسلام کے ماننے والوں نے اس پر عمل کرکے دکھا دیا ۔

 طاہر ندوی

ہلدی پوکھر جمشیدپور جھارکھنڈ










 






1 تبصرے

  1. ماشاءاللہ
    بہت خوب
    اللہ تعالی آپ کے قلم میں مزید برکتیں عطا کرے آمین

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی